میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے، صوبے میں سیکیورٹی کے مسائل موجود ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے معاملے پر وفاقی حکومت سے مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی، اگر صدر نے صورتحال سے متعلق رپورٹ طلب کی تو تمام متعلقہ معلومات اور سفارشات مرتب کرکے پیش کی جائیں گی۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور صوبے میں امن و امان کا قیام تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سے قبل بھی وہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، سیاسی حالات اور دہشتگردی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کو ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ اعلامیے میں صوبے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ملاقات میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خطرات اور سیکیورٹی اداروں کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس بھی موجود تھے۔ آئی جی نے صوبے میں موجود غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پولیس کو الرٹ رکھنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کی گئی حکمت عملی سے متعلق بریفنگ دی۔

گورنر ہاؤس کے مطابق ملاقات میں صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات اور حالیہ سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون اور رابطہ کاری کا معاملہ بھی اہم موضوع رہا۔

فیصل کریم کنڈی اس سے قبل بھی خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔

حالیہ صورتحال میں خیبرپختونخوا کے امن و امان سے متعلق وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطہ اور سیکیورٹی پالیسی پر اتفاقِ رائے ایک اہم معاملہ بن گیا ہے۔ گورنر ہاؤس کی جانب سے آئینی کردار ادا کرنے کے بیان کے بعد صوبے میں امن و امان، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور وفاق و صوبے کے باہمی تعاون سے متعلق معاملات مزید اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔