تفصیلات کے مطابق اتوار کو صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے میں آنے والے ایم ٹی آنر 25 کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 3 پاکستانیوں کی میتیں اور 4 زخمی کریو ممبران ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ای ٹی 694 کے ذریعے کراچی پہنچے۔
کراچی پہنچنے والے زخمیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں، جبکہ رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی وطن واپس لائی گئی ہیں۔
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کارگو ٹرمینل پر جاں بحق افراد کے لواحقین کئی گھنٹوں سے اپنے پیاروں کے منتظر تھے۔ میتیں پہنچنے پر وہاں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے۔
ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچنے والے زخمیوں کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گورنر سندھ نہال ہاشمی نے استقبال کیا۔ سیاسی اور سماجی شخصیات بھی متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے موجود رہیں۔
میتوں کو کارگو ٹرمینل سے ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں میں پہنچایا جائے گا۔ جاں بحق آفیسر محمود احمد انصاری کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب ایف بی ایریا میں ادا کی گی، جب کہ جاں بحق سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر کی نماز جنازہ کل نماز ظہر کے بعد ادا کی جائے گی۔
محمود احمد انصاری کے بیٹے مزمل احمد انصاری نے بتایا کہ ہمیں امید تھی کہ معاملہ ایک، دو ماہ میں حل ہوجائے گا، مگر کئی ماہ انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ عملے کو انتہائی سخت حالات میں رکھا گیا اور کھانے پینے کی سہولیات بھی میسر نہیں تھیں۔
کاشف عمر کے والد عمر فاروق نے بتایا کہ بیٹے کی موت کے بعد وزیراعظم نے فون کرکے دلاسہ دیا۔ تاہم جاں بحق افراد کے اہل خانہ نے معاملے میں تاخیر اور حکومتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔
سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور ایسے واقعات میں فوری اور مؤثر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے وزیراعظم کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا، جب کہ جاں بحق افراد کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کے انتظامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے بھی متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس اور یکجہتی کیا۔
زخمی کریو ممبران نے بحفاظت وطن واپسی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور مشکل وقت میں پاکستانی عوام، میڈیا اور فلاحی اداروں کی حمایت کو سراہا۔
ایم ٹی آنر 25 کے 3 پاکستانی کریو ممبران تاحال کپتان کے ہمراہ جہاز پر موجود ہیں، جن کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ کئی ماہ کے انتظار کے بعد کچھ خاندانوں کو اپنے پیارے واپس مل گئے، تاہم 3 خاندانوں کا انتظار اب بھی باقی ہے۔







