ذرائع کے مطابق مکران ڈویژن میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کے قدرتی اور مصنوعی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ گوادر شہر کو پانی فراہم کرنے والے سوڈ ڈیم میں بھی پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور موجودہ ذخیرے میں بمشکل دو ماہ کی ضروریات پوری کرنے کا پانی باقی رہ گیا ہے۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں پانی کی دستیابی اور خشک سالی کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں گوادر شہر کو پانی کی فراہمی، موجودہ آبی ذخائر، پانی کی طلب اور آئندہ کے ممکنہ مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مون سون کے دوران مکران ڈویژن میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بارشوں میں کمی کے باعث ڈیموں میں پانی کی آمد متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں گوادر سمیت مکران کے مختلف علاقوں میں پانی کی دستیابی ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ گوادر کو پانی فراہم کرنے والے سوڈ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں شہر کی پانی کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
پانی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے شادی کور ڈیم سے پانی کی سپلائی بھی فعال کردی گئی ہے، جبکہ سوڈ ڈیم اور شادی کور ڈیم دونوں ذرائع سے گوادر شہر کو مجموعی طور پر 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں پانی کے دستیاب ذخائر کو احتیاط سے استعمال کرنے اور متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ گوادر شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی میں کسی بڑے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں گوادر میں پانی کی موجودہ طلب اور دستیاب مقدار کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن نے 2.1 ایم جی ڈی ڈی سیلیٹیشن پلانٹ کو مکمل استعداد کے ساتھ چلانے کی ہدایت کردی ہے، سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ سے حاصل ہونے والے پانی کو شہر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیموں سے حاصل ہونے والے پانی کے ساتھ ڈی سیلیٹیشن پلانٹ کی استعداد سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے، خصوصاً اس وقت جب بارشوں میں کمی کے باعث قدرتی آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یاد رہے کہ مکران جیسے خشک اور کم بارش والے خطے میں مسلسل کم بارشیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور ڈیموں میں پانی کی سطح پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں، جس کے باعث طویل مدت میں پینے کے پانی، زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
مقامی حکام کی جانب سے پانی کے دستیاب ذخائر کی نگرانی اور مختلف ذرائع سے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ گوادر میں پانی کے ممکنہ بحران کو قابو میں رکھا جاسکے۔
حکام کے مطابق اگر مون سون کے دوران خاطر خواہ بارشیں نہ ہوئیں تو مکران ڈویژن میں خشک سالی کی صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے، اس لیے پانی کے متبادل ذرائع فعال رکھنے، موجودہ ذخائر کے مؤثر استعمال اور شہریوں کو پانی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔







