عدالت میں نتاشہ کے خلاف امتناعِ منشیات کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ملزمہ کے وکیل فواد علی کچھی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیمیائی تجزیے اور خون کے ٹیسٹ کی رپورٹس میں کسی قسم کی مائع منشیات یا آئس کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔

وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے ملزمہ سے حاصل کیے گئے نمونوں کے حوالے سے بھی شکوک موجود ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ نمونوں میں ردوبدل کیا گیا جبکہ تفتیشی افسر نے ابتدائی بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت اور میڈیا سے چھپانے کی کوشش کی۔

وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی شخص کو محض شبہ یا غیرمصدقہ دعوے کی بنیاد پر منشیات کے مقدمے میں سزا نہیں دی جاسکتی، جبکہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف منشیات کے استعمال یا برآمدگی سے متعلق قابلِ اعتماد اور ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔؎

عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ نتاشہ کے خلاف منشیات کے استعمال یا برآمدگی کے حوالے سے شواہد ناکافی ہیں۔ عدالت نے عدمِ شواہد کی بنیاد پر ملزمہ کو امتناعِ منشیات کے مقدمے میں بری کرنے کا حکم دے دیا۔

کارساز حادثہ کیس اگست 2024 میں کراچی میں پیش آنے والے ایک المناک ٹریفک حادثے کے بعد سامنے آیا تھا۔ حادثے میں ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی، جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار باپ اور بیٹی جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد پولیس نے ملزمہ نتاشہ کے خلاف تھانہ بہادر آباد میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے تھے، جن میں حادثے سے متعلق قتلِ خطا اور امتناعِ منشیات کا مقدمہ بھی شامل تھا۔

پولیس کی جانب سے حادثے کے بعد ملزمہ کے طبی معائنے اور خون کے نمونے حاصل کیے گئے تھے، جن کی رپورٹس بعد میں مقدمے کی کارروائی کا اہم حصہ بنیں۔ منشیات کے مقدمے میں انہی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر استغاثہ نے اپنا مؤقف پیش کیا، تاہم دفاع کی جانب سے ان شواہد کی صحت اور طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے گئے۔

وکیلِ صفائی نے عدالت کے سامنے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ابتدائی طبی رپورٹ اور بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس کے درمیان موجود معاملات کو واضح کرنا ضروری تھا، جبکہ تفتیش کے دوران نمونوں کے تحفظ اور ان کے تجزیے کے طریقہ کار پر بھی سوالات موجود تھے۔

عدالت نے دستیاب شواہد اور وکیلِ صفائی کے دلائل کی روشنی میں قرار دیا کہ منشیات کے مقدمے میں سزا کے لیے مطلوبہ معیار کے مطابق کافی شواہد موجود نہیں، جس کے بعد نتاشہ کو اس مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

واضح رہے کہ کارساز روڈ حادثے کے مرکزی مقدمے میں بھی نتاشہ پہلے ہی متوفین کے لواحقین کے ساتھ صلح نامے کی بنیاد پر بری ہو چکی ہیں۔

کارساز حادثے نے کراچی میں ٹریفک قوانین، تیز رفتاری، ڈرائیونگ کے دوران احتیاط اور حادثات کے مقدمات میں قانونی کارروائی کے حوالے سے بھی اہم بحث کو جنم دیا تھا۔ حادثے کے بعد شہریوں کی جانب سے ذمہ دار ڈرائیورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔

اب امتناعِ منشیات کے مقدمے میں بھی عدالت کی جانب سے بریت کے حکم کے بعد نتاشہ کے خلاف درج مقدمات کی قانونی کارروائی کا ایک اور اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔