بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھینندن نے تقریباً 22 سال تک بھارتی فضائیہ میں خدمات انجام دینے کے بعد فوجی کیریئر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول ایوی ایشن کے شعبے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک نجی فضائی کمپنی میں کمرشل پائلٹ کی حیثیت سے اپنی نئی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابھینندن جس نجی ایئرلائن سے وابستہ ہوئے ہیں، وہ نسبتاً نئی اور چھوٹی فضائی کمپنی ہے۔ مذکورہ ایئرلائن نے مارچ 2024 میں اپنی پروازوں کا آغاز کیا تھا، جبکہ اس کے بیڑے میں اس وقت ATR 72-600 طرز کے 6 طیارے شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ابھینندن نے بھارتی فضائیہ میں فائٹر پائلٹ کے طور پر طویل عرصے تک خدمات انجام دیں اور مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کا نام تاہم 27 فروری 2019 کے واقعے کے بعد عالمی سطح پر نمایاں ہوا، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جھڑپ کے دوران ان کا لڑاکا طیارہ پاکستان میں گر کر تباہ ہوا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی لڑاکا طیاروں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس کارروائی کے دوران بھارتی فضائیہ کا ایک مگ 21 طیارہ پاکستان کی حدود میں گرایا گیا، جبکہ اس میں سوار اس وقت کے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ابھینندن کی گرفتاری کے بعد ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس میں وہ پاکستانی فوج کی تحویل میں نظر آئے۔ بعد ازاں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جذبۂ خیرسگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔
یکم مارچ 2019 کو ابھینندن کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے بعد بھارت میں انہیں قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا اور بھارتی حکومت نے انہیں ویر چکر سے بھی نوازا، جو بھارت کا جنگی حالات میں دیا جانے والا اہم فوجی اعزاز ہے۔
ابھینندن کے فوجی کیریئر میں بعد ازاں ترقی بھی ہوئی اور انہیں گروپ کیپٹن کے عہدے تک پہنچایا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ابھینندن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا معاملہ نیا نہیں۔ ستمبر 2022 میں بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ابھینندن کو وقت سے پہلے فوجی سروس سے ریٹائر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اب ان کی بھارتی فضائیہ سے علیحدگی کے بعد ان کا اگلا مرحلہ سول ایوی ایشن سے جڑ گیا ہے۔ کمرشل پائلٹ کے طور پر نجی ایئرلائن میں شمولیت کو ان کے کیریئر کا ایک نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔
ابھینندن ورتھمان کا نام 2019 کے پاک بھارت فضائی تصادم کے باعث دونوں ممالک میں خاص طور پر زیرِ بحث رہا۔ ان کی گرفتاری، پاکستان کی جانب سے رہائی اور اس کے بعد بھارت میں ملنے والے فوجی اعزاز نے اس واقعے کو خطے کی حالیہ تاریخ کے نمایاں واقعات میں شامل کر دیا۔
اب بھارتی فضائیہ میں تقریباً دو دہائیاں گزارنے کے بعد ابھینندن نے فوجی وردی اتار کر کمرشل ایوی ایشن کا رخ کر لیا ہے، جہاں وہ مسافر طیارے کے پائلٹ کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھیں گے۔







