قرارداد کی منظوری کے موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ’سندھ دھرتی ماں‘ کے نعروں والے کتبے اٹھا لیے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
قرارداد ایک تحریک التوا پر بحث کے بعد اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت سے پیش کی گئی۔ نثار کھوڑو کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے وقت ایوان میں پیپلز پارٹی کے 105 ارکان موجود تھے، جبکہ اپوزیشن کا کوئی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا۔
قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی سازشیں قیام پاکستان کے فوراً بعد شروع ہوگئی تھیں، تاہم انہیں ناکام بنایا گیا۔ ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بننے والے آئین میں صوبوں کی تقسیم کا اختیار قومی اسمبلی کو بھی حاصل نہیں تھا، بعد میں جنرل ضیا الحق کے دور میں آئینی ترمیم کے ذریعے اس اختیار میں تبدیلی کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کو بارہا خبردار کرتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر بات بھی نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری اور حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے قرارداد میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات شامل کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم کے بنیادی معاملے کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں۔ اگر انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث کرنا تھی تو اس کے لیے الگ قرارداد لائی جاسکتی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ارکان اسمبلی میں آکر کہتے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، لیکن باہر جا کر انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کرتے ہیں۔
فریال تالپور، شرجیل میمن، ضیا الحسن لنجار، سعید غنی، سردار شاہ اور مکیش کمار چاولہ سمیت پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی سندھ کی وحدت کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر ان کی زندگی بھی اہم نہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث ایک عرصے سے جاری ہے۔ یہ معاملہ حالیہ دنوں میں اس وقت دوبارہ سیاسی بحث کا مرکز بنا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ انتظامی نظام کو ناکام قرار دیا اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر عوامی سطح پر بحث کی ضرورت پر زور دیا۔







