این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق آئندہ 2 سے 3 روز کے دوران تینوں خطوں کے بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

اتھارٹی کے مطابق بارشوں کے باعث دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر موسمی آبی گزرگاہوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے تودے گرنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو، شگر اور ملحقہ اضلاع کے حساس علاقوں کو اچانک سیلاب کے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے خطرے سے دوچار علاقوں میں بھی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت دیگر علاقوں میں اچانک سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے باعث نشیبی علاقے اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب آسکتی ہیں۔

اتھارٹی نے آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دریاؤں کے مختلف مقامات اور ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے اور ضلعی انتظامیہ کو بروقت احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خطرے سے دوچار علاقوں میں ضروری وسائل پہلے سے پہنچانے اور مقامی آبادی کے محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

اتھارٹی نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے امکان کے پیش نظر متعلقہ محکموں، بالخصوص نشیبی علاقوں میں، الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

شہریوں اور سیاحوں کے لیے احتیاطی ہدایات

این ڈی ایم اے نے شہریوں کو نشیبی علاقوں، دریاؤں، ندی نالوں اور موسمی آبی گزرگاہوں سے دور رہنے اور شدید خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والے افراد، سیاحوں اور مسافروں کو دریاؤں کے کناروں اور تیز بہاؤ والے پانی سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کیا جائے، کیونکہ بظاہر کم گہرا پانی بھی اتنی شدت رکھتا ہے کہ افراد اور گاڑیوں کو بہا لے جائے۔

سیاحوں کو پہاڑی علاقوں میں بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں مون سون کے دوران موسمی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوسکتی ہے۔

این ڈی ایم اے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کیے گئے راستوں پر سفر سے گریز کریں۔