پریس ریلیز کے مطابق چلڈرن ہسپتال لاہور کے سرجیکل وارڈ یونٹ 3 کی دوسری منزل پر واقع ایمرجنسی بلاک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے حوالے سے وضاحت کی جاتی ہے کہ مذکورہ ویڈیو تقریباً دو ماہ پرانی ہے۔

اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے تفصیلی تحقیقات کے بعد نشاندہی کی کہ ہسپتال میں زیرِ علاج بچوں اور ان کے والدین (تیمارداروں) کو مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات والدین کھانے کا بچ جانے والا حصہ بعد میں استعمال کرنے کے لیے اپنے بیگز یا وارڈز میں موجود الماریوں میں محفوظ کر لیتے ہیں، جس کے باعث کھانے کی باقیات کی موجودگی چوہوں کی آمد کا سبب بنتی ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے کے فوری بعد اصلاحی اقدامات کیے گئے اور متاثرہ مقامات کی مکمل صفائی کے ساتھ جراثیم کش ادویات کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس ضمن میں سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ کھانا صرف مختص کردہ جگہوں پر کھایا جائے اور وارڈز یا دیگر غیر مجاز مقامات پر کھانا کھانے یا بچا ہوا کھانا رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

مزید برآں، ہر کھانے کے بعد مختص کردہ مقامات کی فوری صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ایسے واقعات کی دوبارہ روک تھام کے لیے مسلسل نگرانی کا مؤثر نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

اس تمام عمل کی باقاعدہ نگرانی ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے معائنوں کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ الیکشن کنٹرول کمیٹی صفائی، حفظانِ صحت اور چوہوں کی روک تھام سے متعلق مقررہ ضوابط پر عمل درآمد کی تصدیق اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔

ہسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اصلاحی اقدامات کے نفاذ کے بعد اس نوعیت کا کوئی دوسرا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ہسپتال کے ماحول کو صاف ستھرا، محفوظ اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ معائنوں اور مسلسل نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔