وزیراعظم کی زیر صدارت سانحہ پمز سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان نے ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں واقعے کی تقریباً 2 منٹ پر مشتمل سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر متین شاہ اور ڈاکٹر وارث علی شاہ، شعبہ نیونیٹولوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور ڈی جی ایمرجنسی سروسز سی ڈی اے ڈاکٹر عبدالرحمٰن کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی تک معاملہ محدود نہ رکھا جائے بلکہ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔ سیکیورٹی پر مامور نجی کمپنی اور اس کے متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔
ابتدائی تحقیقات میں پمز کے فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ یا ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ایس او پیز اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی۔ پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر پایا گیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق واقعے کے وقت وارڈ میں نگران عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا اور صرف دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ کو پورے وارڈ میں پھیلنے میں صرف تقریباً دو منٹ لگے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جب کہ پہلی ایمرجنسی رسپانس ٹیم 15 منٹ بعد موقع پر پہنچی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پمز میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، جب کہ نیونیٹل وارڈ میں فائر سیفٹی سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی بھی خلاف ورزی پائی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے کسی افسر کو باقاعدہ طور پر ذمہ دار مقرر نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ ذمہ داری اضافی طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سونپی گئی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ واقعے سے صرف ایک ماہ قبل جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگ چکی تھی، تاہم اس کے بعد اسپتال میں فائر سیفٹی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
وزیراعظم نے پمز کے انتظامی اور انفراسٹرکچر کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ معطل کیے گئے افسران کی جگہ فوری طور پر نئے افراد تعینات کیے جائیں۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے وارڈ میں موجود ایک دوسری نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنانے کی ہدایت کی تاکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جاسکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ستارہ امتیاز دینے اور 10 لاکھ روپے انعام کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچا کر ذمہ داری اور انسانیت کی بہترین مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فرض شناس افراد پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔
مزید پڑھیں: مصطفیٰ کمال کے استعفے کا معاملہ ’گول‘، وزیرِاعظم کا سانحہ پمز کی ابتدائی انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ
وزیراعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، سانحے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں مثالی سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کسی ماں کا دل ایسی مجرمانہ غفلت کے باعث نہ ٹوٹے۔
انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید تفصیلی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی بھی منظوری دے دی ہے، جسے وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل ریٹائرڈ خورشید عطرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔







