ذرائع کے مطابق سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے پمز میں اہم عہدوں پر تعینات افسران کو غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمود کی سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔
انکوائری کمیٹی کے مطابق پمز کو غیر پیشہ ورانہ انداز اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا، جس کے باعث ہسپتال کے انتظامی امور میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ پیشہ ور افراد تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جب کہ پمز کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
کمیٹی نے وفاق کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی مؤثر نگرانی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پمز کے انتظامی نظام میں بہتری کے لیے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا ہے اور اہم عہدوں پر موجود افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی متوقع ہے۔
مصطفیٰ کمال کے استعفے پر کیا ہوا؟
دوسری جانب پمز سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا، تاہم اس معاملے پر وزیر صحت نے واضح جواب دینے کے بجائے معاملہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا۔
پمز پہنچنے پر نجی نشریاتی ادارے ’سماء نیوز‘ کے نمائندے نے مصطفیٰ کمال سے سوال کیا کہ وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کسی کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے؟ وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ رپورٹ آجائے گی تو سب پتا چل جائے گا۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا پمز کے سربراہ فائلیں سمیٹ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کہا کہ رپورٹ کا انتظار کریں، آجائے گی تو سب پتا چل جائے گا۔
جب ان سے اپنے استعفے سے متعلق سوال کیا گیا تو وفاقی وزیر نے کہا کہ میرے استعفے کا کیا ہوا، یہ وزیراعظم سے پوچھیں، رپورٹ آجائے گی تو سب کلیئر ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آتشزدگی: کب کیا ہوتا رہا، عینی شاہدین نے کیا دیکھا، دل دہلا دینے والا سانحہ چند منٹوں میں کیسے پیش آیا؟
وفاقی وزیر صحت پمز پہنچے تو ان کے ہمراہ ڈی جی اسلام آباد عرفان نواز میمن اور دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے، تاہم اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کے مزید سوالات کے جوابات نہیں دیے۔
واضح رہے کہ اب ابتدائی انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کے فیصلے کے بعد پمز کے اہم انتظامی عہدوں پر موجود افسران کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جب کہ مصطفیٰ کمال کے استعفے کا معاملہ بدستور واضح نہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے سامنے آنا باقی ہے۔







