لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ملک میں صنعتکاری کا فروغ، مقامی مینوفیکچرنگ میں اضافہ، کاروباری لاگت میں کمی اور نجی شعبے کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی نئی صنعتی پالیسی وزیراعظم کی منظوری سے تیار ہوچکی ہے، جس میں بیمار اور بند صنعتی یونٹس کی بحالی، کاروباری افراد کو غیر ضروری ہراسانی سے تحفظ، آسان فنانسنگ اور کاروباری تنازعات کے فوری حل کے لیے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

معاون خصوصی کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ایسے صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا جائے گا جو بلند بجلی کے نرخوں، مہنگے قرضوں، ٹیکسوں کے بوجھ یا دیگر معاشی مشکلات کے باعث بند ہوگئے ہیں۔

ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری اداروں کی تنظیم نو اور بحالی کے لیے مؤثر نظام وضع کررہی ہے تاکہ قابل عمل صنعتیں مستقل طور پر بند ہونے کے بجائے دوبارہ پیداواری سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو غیر ضروری ہراسانی سے تحفظ دینا بھی نئی صنعتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ قانون کی خلاف ورزی یا فراڈ کی صورت میں کارروائی ضرور ہونی چاہیے، تاہم جائز کاروبار کو غیر ضروری کارروائیوں کے ذریعے متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینلز سمیت مختلف شعبوں کیلئے نئی پالیسیاں

ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، سولر پینلز، موبائل فون مینوفیکچرنگ، زرعی آلات، کھاد، آٹوموبائل اور دیگر شعبوں کے لیے نئی پالیسیاں تیار کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک میں مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور درآمدی اشیا پر انحصار کم کرنا ہے، جبکہ نئی آٹو پالیسی بھی حتمی مراحل میں ہے۔

معاون خصوصی کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات شامل ہوں گی، جس سے ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی مقامی مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بیٹری، سولر پینلز اور موبائل فون سمیت نئی ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں مقامی مینوفیکچرنگ کا دائرہ بڑھانا چاہتی ہے۔

صنعتکاری معاشی ترقی کیلئے ناگزیر قرار

اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی صنعتکاری کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت کو عالمی اور علاقائی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔ بجلی کے بلند نرخ، مہنگے قرضے اور ٹیکسوں کا مجموعی بوجھ مقامی صنعت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ اگر صنعتی شعبے کو فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ملک میں صنعتکاری کے بجائے ڈی انڈسٹریلائزیشن کا عمل مزید تیز ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے صنعتی ادارے کی جانب سے ٹیکسٹائل مل بند کیے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے تقریباً 2 ہزار افراد براہ راست روزگار سے محروم ہوئے، جبکہ اس صنعت سے وابستہ دیگر کاروبار اور خاندان بھی متاثر ہوئے۔

صدر لاہور چیمبر کا کہنا تھا کہ ایک فیکٹری بند ہونے کا اثر صرف اس کے ملازمین تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری سپلائی چین، متعلقہ کاروبار اور ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعتی بجلی کے نرخ علاقائی ممالک کے مقابلے میں مسابقتی بنائے جائیں، ٹیکس نظام کو کاروبار دوست بنایا جائے اور مقامی صنعت اور کمرشل امپورٹرز کے درمیان ٹیکس کے فرق کو کم کیا جائے۔

بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت صنعت کے لیے بجلی کی قیمتیں مزید کم کرکے پاکستانی صنعت کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی بنانا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میکرو اکنامک استحکام کے نتیجے میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ بھی ماضی کے 22 فیصد کی سطح سے کم ہوکر تقریباً ساڑھے 11 فیصد تک آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان اسٹیل ملز کی زمین لیز پر دینے کا منصوبہ

معاون خصوصی نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی تقریباً 6 ہزار 400 ایکڑ زمین کو لینڈ لیز ماڈل میں تبدیل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس ماڈل کے تحت سرمایہ کاروں کو بھاری ابتدائی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ سالانہ فیس کی بنیاد پر 30 سال کے لیے زمین حاصل کی جاسکے گی، جبکہ لیز کو مزید 30 سال کے لیے قابل تجدید رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹیں کم کرنا اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے نجی شعبے کو مواقع فراہم کرنا ہے۔

ایئرپورٹس اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت ایئرپورٹس کی نجکاری کے ساتھ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف کمپنیوں نے تقسیم کار کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور نجکاری کے عمل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔

ایس ایم ایز اور خواتین کیلئے فنانسنگ پر توجہ

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کے شعبے پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سمیڈا کو مزید فعال بنایا گیا ہے، جبکہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، مائیکرو فنانسنگ اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بینک فنانسنگ کی رسائی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سمیڈا اور وزارت خارجہ میں خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بیرون ملک نمائشوں میں شرکت کے لیے ویزا کے حصول سمیت دیگر معاملات میں سہولت فراہم کی جاسکے۔

پاکستان، چین کے درمیان 600 مشترکہ منصوبے زیر غور

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 600 مشترکہ منصوبے زیر غور ہیں، جن میں سے تقریباً 32 فیصد منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کررہی ہے تاکہ مفاہمت اور معاہدوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکے۔

ہارون اختر خان کے مطابق چین کے ساتھ فارماسیوٹیکل شعبے میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے، جبکہ پاکستان میں ویکسین اور انسولین کی مقامی تیاری کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر ضروری ادویات کی تیاری سے درآمدی انحصار کم کرنے اور ملک میں صنعتی صلاحیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

نئی صنعتی پالیسی کی تیاری میں 64 سے زائد اجلاس

ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی صنعتی پالیسی کی تیاری کے دوران مختلف چیمبرز، تجارتی تنظیموں، صنعتکاروں، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ 64 سے زائد اجلاس کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی تجاویز اور مسائل کو پالیسی کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ نئی صنعتی پالیسی عملی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف نئی صنعتیں لگانا نہیں بلکہ پہلے سے موجود صنعتی یونٹس کو بھی مشکلات سے نکال کر دوبارہ فعال کرنا ہے۔

کاروباری تنازعات کے فوری حل کیلئے کمرشل کورٹس

معاون خصوصی نے کہا کہ کاروباری تنازعات کے جلد حل کے لیے کمرشل کورٹس کا نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔

ان کے مطابق کاروباری ماہرین اور متعلقہ ججز کی مدد سے تجارتی مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ دیوالیہ پن اور کاروباری اداروں کی تنظیم نو کے لیے بھی مؤثر نظام وضع کیا جارہا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ نجی شعبے کو آسان اور طویل المدتی فنانسنگ فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل پالیسی بھی تیار کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کو صرف مختصر مدت کے بینک قرضوں تک محدود رکھنے کے بجائے طویل المدتی فنانسنگ کے نئے ذرائع پیدا کرنا ضروری ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کاروباری معاملات کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے، کیونکہ نجی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری کاروباری برادری کو پالیسی کی سمت اور ضروری سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ میں نجی شعبے کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، ویتنام اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک نے صنعتی ترقی، مستحکم پالیسیوں اور نجی شعبے کی مضبوط شمولیت کے ذریعے اپنی معیشتوں کو آگے بڑھایا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں بھی پالیسیوں کے تسلسل، سیاسی و معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری مسائل کے بروقت حل کے ذریعے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدور میاں انجم نثار، طاہر جاوید ملک، دیگر سابق عہدیداران، وفاقی سیکریٹری انڈسٹریز سیف انجم، سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر اور لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔