دھرنوں کے شرکا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، جب کہ جماعت اسلامی حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عوام پر عائد اضافی معاشی بوجھ ختم کرانا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سمیت عوامی مطالبات منوانا ہے۔
دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنوں میں شرکا کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جماعت اسلامی کی قیادت نے کارکنوں کو احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گزشتہ تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں
جماعت اسلامی کے دھرنوں کو دو ہفتے مکمل، 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان؛ ’ہم نکل پڑے تو کوئی روک نہیں سکے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے‘، حافظ نعیم الرحمان
مادھو لعل حسین
29 اگست، 2026پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنوں کو دو ہفتے مکمل ہوگئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 3 ستمبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اس کے بعد لانگ مارچ کے مرحلے کا اعلان کیا۔ صوبائی دارالحکومتوں سے شروع ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں، جہاں کارکنان کے ساتھ خواتین، بچے، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی احتجاج میں شریک ہیں۔
تازہ اپڈیٹس
جماعتِ اسلامی کے دھرنے اب 25 کروڑ عوام کے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک ملک بھر میں پھیل چکی ہے، دھرنوں کو دو ہفتے مکمل ہوگئے ہیں اور اب 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، حکومت مطالبات نہ مانے تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔
لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران یہ سمجھ رہے تھے کہ جماعت اسلامی کے کارکن دو چار دن میں واپس چلے جائیں گے، لیکن ہمارے دھرنے اب 25 کروڑ عوام کے دھرنے بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور چترال سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں عوام مہنگائی، مہنگی بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج ملک کی مائیں گھر چلانے کے لیے پریشان ہیں، عوام کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے نہیں، جب کہ حکمران طبقہ عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی اور تاجروں و صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال حکمرانوں کے لیے نوشتہ دیوار بن جائے گی۔ حکومت ہڑتال کے بعد بھی مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ہم نکل پڑے تو کوئی روک نہیں سکے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے۔ جماعت اسلامی کی تحریک کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔
بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 49 ہزار میگاواٹ ہے جب کہ موجودہ کھپت تقریباً 21 ہزار میگاواٹ ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کیوں کی جارہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ عوام ایک طرف بجلی کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ بجلی کے شعبے میں موجود مسائل، آئی پی پیز اور کیپسٹی چارجز کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جارہا ہے۔
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں ملک کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ پٹرول کے فی لیٹر پر تقریباً 130 روپے کے ٹیکسز اور دیگر چارجز عائد ہیں، جن میں تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں اور اب مزید معاشی بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف دیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومتی اخراجات اور سرکاری مراعات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران اور حکمران طبقے کے لیے مفت پٹرول کی سہولت ختم کی جائے، جس سے ملک کو سالانہ 380 ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہ کرے اور حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں ختم کرے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ چھوٹی گاڑیاں چلانے سے کوئی مر نہیں جائے گا، حکمرانوں کو عوام کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مریم نواز کے طیارے اور چیئرمین سینیٹ کی گاڑی فروخت کرکے عوام کو ریلیف دینے کی تجویز بھی دی، تاہم ان کے بعض مالی دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔






