جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی ہڑتال کی کال پر آج اسلام آباد، لاہور، کراچی اور چارسدہ سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
اسلام آباد میں سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی-8 اور جی-9 جبکہ لاہور میں عابد مارکیٹ، ہال روڈ، نسبت روڈ اور اچھرہ سمیت متعدد مارکیٹیں بند ہیں۔
جماعت اسلامی اور تاجروں کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کم یا ختم کی جائے، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے۔
لاہور میں احتجاجی ریلی کے دوران پولیس اور جماعت اسلامی کارکنوں کے درمیان کشیدگی ہوئی، جماعت اسلامی کے مطابق سات کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جنہیں بعد میں رہا کروا لیا گیا۔
چارسدہ میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جبکہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج عوام پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز، مہنگائی اور معاشی بوجھ کے خلاف جاری رہے گا۔جماعت اسلامی کی قیادت نے کارکنوں کو احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
’پٹرولیم لیوی‘ بھتہ ٹیکس کے خلاف جماعتِ اسلامی کی ہڑتال کامیاب؛ 'مذاکرات میں تاخیر کے ساتھ دھرنوں کا دائرہ کار وسیع ہوگا، اگلی کال پہیہ جام کی ہوگی'، حافظ نعیم الرحمان
مادھو لعل حسین چانڈیو
29 اگست، 2026امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی کال پر جمعرات کو پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہڑتال کامیاب رہی۔ بازار' چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں۔ وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ لاہور میں پولیس نے زبردستی دکانیں کھلوانے کی کوشش کی، تاجروں نے دکانیں کھولنے سے انکار کردیا۔ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جماعت اسلامی لاہور کے ترجمان شاہد نوید ملک نے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے غنڈہ گردی کی، حکومتی ہتھکنڈوں سے ہم گھبرانے والے نہیں، ہمارے کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
تازہ اپڈیٹس
جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کامیاب رہی، حکومت کو عوام کو ریلیف دینا پڑے گا، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 130 روپے لیوی اور ٹیکسز کے خلاف کراچی سے خیبر تک کامیاب اور پرامن ہڑتال ہوئی، جس میں تاجروں اور وکلا سمیت مختلف طبقات نے بھرپور حصہ لیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں ہڑتال نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کے عوام جماعت اسلامی کی تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر ’بھتہ لیوی‘ کے خلاف ہونے والی پرامن ہڑتال میں عوام کے ساتھ تاجروں اور وکلا نے بھی بھرپور شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف طبقات جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ حکومت کی ٹیم مذاکرات کے لیے آج منصورہ آئی، جہاں جماعت اسلامی نے حکومتی وفد کا خیرمقدم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے کہ مذاکرات اور دھرنے ساتھ ساتھ جاری رہیں گے اور احتجاج کو مذاکرات کے دوران ختم نہیں کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور حکومت کو عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
ہمارے پاس حکومتی مظالم کی فہرست ہے، مذاکراتی ٹیبل پر ناک آؤٹ کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک گیر ہڑتال کو ’تاریخی جدوجہد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں جتنی تاخیر کرے گی، جماعت اسلامی کے دھرنوں کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوتا جائے گا، جب کہ آئندہ مرحلے میں پہیہ جام اور لانگ مارچ کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔
لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج پاکستان بھر میں تاریخی جدوجہد ہوئی، کراچی میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا، وکلا نے ریلیاں نکالیں جب کہ مالاکنڈ ڈویژن اور خیبر پختونخوا کے وسطی علاقوں میں بھی کاروبار بند رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب بھر میں پولیس تشدد کے باوجود ہڑتال کامیاب رہی، جب کہ لاہور میں جماعت اسلامی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں، جن کی مذمت کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف دہشت گردی کے ’ناجائز‘ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جنہیں فوری واپس لیا جائے۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی وفد آج ان کے پاس آیا اور جماعت اسلامی نے اپنی اقدار کے مطابق وفد سے بات چیت کی۔ حکومتی کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاسکتی، جس پر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس حوالے سے طریقہ کار وہ بتائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے جماعت اسلامی کی تجاویز پر غور اور انہیں ماننے کی بات کی، تاہم جماعت اسلامی صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کرسکتی۔ ہمارے پاس حکومتی مظالم کی فہرست ہے، مذاکراتی ٹیبل پر ناک آؤٹ کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ راولپنڈی میں جلد دھرنا شروع کیا جائے گا جب کہ لاہور کا دھرنا بھی جاری رہے گا۔ لاہور، کراچی، سکھر، چترال، حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں، جب کہ پشاور میں تین مقامات پر بھی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور جماعت اسلامی کے بنیادی مطالبات میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور روٹی کی قیمت میں کمی شامل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کارکنوں کو کل ان کے مطالبات پر مبنی پرفارما دیے جائیں گے، جس کے ذریعے ملک بھر میں پانچ کروڑ افراد کے دستخط حاصل کرنے کی مہم چلائی جائے گی۔
انہوں نے آج کی ہڑتال کو آئندہ احتجاج کے لیے ’ریہرسل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلی کال پہیہ جام کی ہوگی، جب کہ جماعت اسلامی لانگ مارچ کے لیے بھی تیار ہے اور اس کی تحریک رکنے والی نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ نظام نے عوام کو بہت دھوکے دیے ہیں اور لوگوں کا اعتماد سیاسی جماعتوں سے اٹھ چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ’سنجیدہ‘ قائدین نے آج جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کی ہے جب کہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی جماعت اسلامی کی تحریک سے جڑ رہے ہیں۔
سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو ایم کیو ایم بننے کے الزام پر ردعمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ حکومت کو ماضی کے واقعات نہیں بھولنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو سندھ میں ہزاروں گاڑیاں جلائی گئیں، جبکہ ان کے بقول سندھ حکومت کے موجودہ اقدامات جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے میئر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ’قابض میئر‘ مسلط کیا گیا ہے۔ ’جمہوریت کے ڈاکو‘ جماعت اسلامی کو یہ نہ بتائیں کہ ہڑتال کیسے ہوتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا کہ مذاکرات میں تاخیر کے بجائے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
لیاری اور کورنگی سے گرفتار جماعت اسلامی کے کارکن فوری رہا کیے جائیں، ہمارااحتجاج پُرامن ہے، منعم ظفر خان
کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، لوڈشیڈنگ اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف ہڑتال کی کال پر شہر کی متعدد مارکیٹیں بند رہیں، جبکہ لیاری اور کورنگی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر جماعت اسلامی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ پولیس نے لیاری میں جماعت اسلامی کے کارکنان کو گرفتار کیا، جبکہ سابق رکنِ صوبائی اسمبلی سید عبدالرشید کے بھائی جواد شعیب کو بھی کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا ہے۔ منعم ظفر خان نے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف کارروائی کے بجائے عوام کے مطالبات سنے۔
منعم ظفر خان نے ریگل چوک کراچی میں تاجروں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری نے آج کی ہڑتال کو کامیاب بنایا ہے، شہر کی تین سو سے زائد چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند ہیں، جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے، اسکولز بھی بند ہیں جبکہ وکلا برادری کی جانب سے بھی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر کا کہنا تھا کہ شہر بھر کے تاجروں اور عوام نے امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر لبیک کہا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اپنے احتجاج کا اظہار کیا، موجودہ حالات میں عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور صنعتوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ عوام کو بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں کا سامنا ہے، کے الیکٹرک کے زائد بلوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، جبکہ صنعتوں اور کاروبار کے لیے بجلی کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے، ظالمانہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور بجلی کے بھاری بلوں سے عوام کو نجات دلانا ضروری ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مزید ٹیکس اور لیوی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمران اپنی مراعات اور اخراجات کم کریں، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد تاجر برادری کے ساتھ ہے اور عوام کے جائز مطالبات کے لیے احتجاج جاری رہے گا، عائد کیا کہ احتجاج کو دبانے کے لیے حکومت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور لیاری و کورنگی میں کارکنوں کی گرفتاریاں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار تمام کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور پرامن احتجاج میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ منعم ظفر خان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی ہڑتال پرامن ہے اور کسی قسم کے جلاؤ گھیراؤ یا شرپسندی کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں شرپسند عناصر جلاؤ گھیراؤ یا توڑ پھوڑ کر رہے ہیں تو ایسے واقعات کی مذمت کی جائے گی، تاہم پرامن سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام اور تاجر برادری کے ساتھ مل کر مہنگائی، بجلی کے مسائل، اضافی ٹیکسز اور کاروباری مشکلات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
پنجاب پولیس کی جماعت اسلامی کے کارکنان کو مشتعل کرنے کی کوشش
لاہور میں جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی، جبکہ جماعت اسلامی نے کارکنوں پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق ہڑتال کے دوران کارکن اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے انہیں روکنے اور بعض کارکنوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔ جماعت اسلامی کا الزام ہے کہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے مطابق لاہور سے اس کے پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں معاذ احمد، عبدالصبور، حافظ ظنون اور اسامہ حنیف سمیت دیگر کارکن شامل ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس نے ان کارکنوں کو اردو بازار کی حدود سے حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کردیا ہے۔
جماعت اسلامی کے کارکنوں نے زیرِ حراست ساتھیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کیا، جبکہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے پولیس کارروائی کو سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال قرار دیا ہے۔
جماعت اسلامی لاہور کے رہنما محمد جاوید قصوری نے لاہور سمیت دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے زبردستی دکانیں کھلوانے کی کوشش شرمناک اقدام ہے۔
محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ قوم نے جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال پر لبیک کہہ دیا ہے، جو حکمرانوں کے لیے نوشتہ دیوار ہے، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور عوام کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن اور جمہوری تحریک چلا رہی ہے اور کارکنوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت عوام کی آواز سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کرکے حالات خراب کرنے سے گریز کرے۔
محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن اپنے جائز مطالبات کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم یا کم کی جائے، بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، جبکہ پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
واقعے پر پولیس کا مؤقف سامنے آنے کے بعد گرفتاریوں اور مبینہ تشدد سے متعلق صورتحال کی مزید تفصیلات واضح ہوسکیں گی۔
جماعت اسلامی کی ہڑتال، اسلام آباد سے لاہور تک کاروباری مراکز بند
اسلام آباد اور لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی ہڑتال کی کال پر مختلف کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ تاجروں نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ، جی نائن سمیت مختلف علاقوں کے کاروباری مراکز میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔ تاجروں اور شہریوں نے جماعت اسلامی کی اپیل پر اپنے کاروبار بند کرکے ہڑتال میں شرکت کی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ان پر عائد لیوی کے باعث کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں،حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی یا اس کا خاتمہ کرے تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔
لاہور میں بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال پر مختلف مارکیٹوں میں شٹر ڈاؤن رہا۔ عابد مارکیٹ، ہال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ اور اچھرہ بازار سمیت متعدد تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے۔

اسی طرح کوئنز روڈ، فیروزپور روڈ اور مال روڈ سے منسلک مختلف مارکیٹوں میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ دکانیں بند ہونے کے باعث معمول کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض علاقوں میں سڑکوں اور بازاروں میں معمول سے کم رش دیکھا گیا۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہڑتال کا مقصد عوام پر عائد معاشی بوجھ کے خلاف آواز بلند کرنا اور حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرنا ہے۔
ہڑتال کے شرکا اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم یا کم کی جائے، ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر عوامی مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔
اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال پر کاروباری سرگرمیوں کی صورتحال مختلف رہی، جبکہ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
جتنے ظلم کر سکتے ہو کرلو، ہڑتال ضرور ہوگی: حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی، بجلی کے فکسڈ چارجز اور مہنگائی کے خلاف جماعتِ اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی، جب کہ 3 ستمبر کو ملک بھر میں تاریخی ہڑتال ہوگی اور لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں کی مارکیٹیں بند رہیں گی۔
لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا نظم مسلسل 18ویں روز دھرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ ہمارے قائدین عوام اور تاجروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ پشاور میں چار مقامات پر دھرنے جاری ہیں، جب کہ چترال، سکھر، سندھ کے مختلف علاقوں اور جنوبی پنجاب میں بھی احتجاجی کیمپ لگے ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ جماعتِ اسلامی کے احتجاج کو عوام کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی کی تمام مارکیٹوں کی تنظیموں اور لاہور کے تاجروں نے بھی 3 ستمبر کی ہڑتال کی حمایت کی ہے، اس لیے کل تمام مارکیٹیں بند ہوں گی۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کو ’بھتہ‘ اور بجلی کے فکسڈ چارجز سے ہر شخص پریشان ہے۔ حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کی وجہ سے لیوی ختم نہیں کرسکتے، جب کہ حکمران طبقہ ہر بار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام آخری پروگرام ہوگا، لیکن ہر حکومت عوام کو آئی ایم ایف کی دلدل میں پھنسا دیتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینکوں کا مافیا چینی، آٹے اور آئی پی پیز کے مافیا کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ آئی پی پیز کے قرضوں کا سود بھی عوام ادا کرتی ہے، جب کہ آئی پی پیز نے عوام کے پیسوں سے جو منافع کمایا، اس پر بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ وہ عوام کے حقوق کے لیے نکلی ہے۔ لوگ ہڑتال کر رہے ہیں، لیکن مسلم لیگ ن نے ’دھندہ‘ شروع کر دیا ہے، ایک طرف مذاکرات کیے جاتے ہیں اور دوسری جانب تاجروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ رات کے وقت گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں، جتنے ظلم کر سکتے ہو کرلو، ہڑتال ضرور ہوگی۔ جماعتِ اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت پر یقین رکھتی ہے اور حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے تاجروں پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ راولپنڈی میں بھی دھرنے شروع کیے جائیں گے اور جن اضلاع میں اب تک احتجاج نہیں ہوا، وہاں بھی دھرنے دیے جائیں گے۔
اسلام آباد بار کونسل کا پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز معاہدوں کے خلاف جماعتِ اسلامی کی 3 ستمبر کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان
اسلام آباد بار کونسل نے پیٹرولیم لیوی، بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں، بھاری ٹیکسز اور آئی پی پیز معاہدوں سے عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری آصف عرفان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بھاری ٹیکسز اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف نے عام آدمی، تاجر برادری، پیشہ ور افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
3 ستمبر کو تمام دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں گی، تاجر تنظیمیں خیبرپختونخوا
خیبرپختونخوا کی مختلف تاجر تنظیموں نے پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف جماعتِ اسلامی کی 3 ستمبر کو ہونے والی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا۔
ضلع چارسدہ کی تینوں بڑی تاجر تنظیموں (تاجر اتحاد، آل تاجر فیڈریشن اور متحدہ شاپ کیپر فیڈریشن)، ضلع بٹگرام کی تاجر برادری اور آل ٹریڈ فیڈریشن ایبٹ آباد نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں کل 3 ستمبر کو تمام مارکیٹیں اور دکانیں
کراچی تاجر الائنس کی جماعتِ اسلامی کی 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت
کراچی تاجر الائنس نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو عوام اور تاجروں پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کی جانب سے 3 ستمبر کو ہونے والی ملک گیر ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔
آل کراچی تاجر الائنس کے صدر آصف گلفام نے کہا کہ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 130 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ، بجلی، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور لیوی سے سب سے زیادہ چھوٹا تاجر اور عام شہری متاثر ہو رہا ہے۔ پیٹرول پر عائد اضافی لیوی فوری طور پر واپس لی جائے، بصورت دیگر کراچی کی تاجر برادری بھی احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوگی۔
پنجاب کی مختلف بارز کا 3 ستمبر کو ہڑتال کا اعلان
پنجاب کی مختلف ضلعی بار کونسلوں نے جماعتِ اسلامی کی 3 ستمبر کو ہونے والی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا۔ بار کونسلوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام اور وکلا برادری پر معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں بطور احتجاج 3 ستمبر 2026، بروز جمعرات مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔
راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کی 3 ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت
راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور پیٹرول پر عائد لیوی ٹیکس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 3 ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کردی۔
ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر پڑنے والا معاشی بوجھ ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے۔
نوٹس کے مطابق ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی 3 ستمبر کو ہونے والی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتی ہے اور حکومت پر زور دیتی ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے تاکہ عام آدمی کی معاشی مشکلات کم ہوسکیں۔
لاہور کی تاجر تنظیموں کا جماعتِ اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان
لاہور کی تاجر تنظیموں نے جماعتِ اسلامی کی 3 ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال کے دوران مارکیٹیں اور دکانیں بند رہیں گی۔
اسلام آباد کے تاجروں کا پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا اعلان

اسلام آباد میں پاکستان بزنس فورم کے زیر اہتمام تاجر برادری کے اعزاز میں عشائیے کا انعقاد کیا گیا، جس میں دارالحکومت کی مختلف تاجر تنظیموں، تجارتی مراکز اور چیمبرز کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔عشائیے میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے خصوصی شرکت کی، جبکہ کاشف چوہدری، طاہر چوہدری، طاہر ایوب، اویس ستی اور زاہد قریشی سمیت دیگر تاجر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
تقریب میں اسلام آباد کی مختلف تاجر تنظیموں اور تجارتی مراکز کے نمائندوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔
تاجر رہنماؤں نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف جاری جدوجہد کو قومی تحریک قرار دیا۔
عشائیے میں پاکستان بزنس فورم، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سمال انڈسٹریز کے رہنماؤں کے علاوہ فروٹ ایسوسی ایشن، اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور مختلف مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کی تاجر انجمنوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
جی 13 مرکز، جی 9 مرکز، جی 11 مرکز، ایف 7 مرکز، جی 8 مرکز، ترنول، بہارہ کہو، لہتراڑ روڈ، پی ڈبلیو ڈی اور آبپارہ سمیت مختلف علاقوں کے تاجر نمائندگان بھی عشائیے میں شریک ہوئے۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تاجر برادری پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے کاروباری طبقے سمیت عام شہریوں کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے، اس لیے حکومت کو عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے اور تاجر برادری جماعت اسلامی کے احتجاجی لائحہ عمل کے ساتھ کھڑی ہے۔
شرکا نے تاجر برادری کے مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور ملک کو درپیش معاشی بحران کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
تاجر رہنماؤں نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک صرف تاجروں کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ عوامی مفادات سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے تاجر برادری اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
جماعتِ اسلامی نے ڈی چوک جانے کی بات کی ہے، یہ آخری آپشن ہونا چاہیے: فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، جماعت اسلامی کے لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے منصورہ کا دورہ کیا اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ بات چیت ہوتی رہتی ہے، اختلافات بھی ہوتے ہیں اور اتحاد بھی بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے سی این جی اور گندم کی فراہمی بند کی گئی تو تمام سیاسی جماعتیں صوبے کے مسئلے پر اکٹھی ہوئی تھیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے وفاق سے اپنا حق حاصل کیا گیا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کے دوران خیبرپختونخوا میں سی این جی کی فراہمی بند ہوئی، تاہم صوبے کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر وفاق سے بات کی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور صوبے میں دہشت گردی بھی موجود ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا اور پاٹا پر عائد کیا گیا ٹیکس واپس لیا جائے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ڈی چوک جانے کی بات کی گئی ہے، تاہم یہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ مسائل کا حل احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
ہڑتال کامیاب ہوگی، حکمرانوں کو پیچھے ہٹنا پڑے گا؛ حافظ نعیم الرحمان

پشاور میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہیں جماعتِ اسلامی یا اپنے لیے ایک پائی بھی نہیں چاہیے، وہ عوام کے لیے نکلے ہیں اور قوم کے دکھوں پر سیاست بازی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی عوام کے مسائل ہیں، جماعتِ اسلامی کے ذاتی مسائل نہیں۔ عوام کے ساتھ مل کر 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنائیں گے اور حکمرانوں کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے تاجر برادری سے ہڑتال میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دکانداروں اور تاجر تنظیموں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ انجمن تاجران سمیت تمام تنظیموں سے جماعتِ اسلامی کی کمیٹی رابطے میں ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ 3 ستمبر کو عوام کے حقوق کے لیے بھرپور ملک گیر ہڑتال ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ ہڑتال کامیاب ہوگی، جس کے بعد حکمرانوں کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
انہوں نے ملک میں مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے باعث عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، جب کہ امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے۔ امن و امان بہتر بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، حالانکہ پاکستان میں تقریباً 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ عوام ایک طرف بھاری بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں اور دوسری جانب لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور بجلی و روٹی کی قیمتیں کم کی جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کی زندگی کی شاہراہیں بند کر رکھی ہیں، جب کہ شریف خاندان نے ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ 3 ستمبر کی ہڑتال میں بھرپور ساتھ دے اور عوامی حقوق کی اس جدوجہد کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک عوام کو ریلیف دلانے تک جاری رہے گی، حافظ نعیم الرحمان

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جماعت اسلامی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جلسے کے انعقاد میں انتظامیہ کی جانب سے پیدا کی گئی رکاوٹوں کو ناکام بنا دیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں کو تاریخی مقام پر جلسہ کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکیں بھر جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کارکنوں سے لیاقت باغ کے تالے نہ توڑنے کا کہا تھا اور آج حکمرانوں نے خود تالے کھول دیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی امن پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور کارکنوں نے صبر و تحمل کے ساتھ احتجاجی تحریک جاری رکھی۔
لیاقت باغ کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسی مقام پر شہید ملت لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا، تاہم دہائیاں گزرنے کے باوجود قوم کے محسنوں کے قاتل گرفتار نہیں کیے جاسکے۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ داروں کو بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب عوام کسی کو مسترد کردیتے ہیں تو انہیں فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکمران نہ قوم کو صحت کی سہولیات دے سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ مافیا عوام کو ریلیف نہیں دے سکتا بلکہ صرف عذاب دے سکتا ہے، جب کہ حکمرانوں کی جانب سے عوام کو بجلی، پٹرول بم اور مہنگائی کا تحفہ دیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ہوگا اور حکمرانوں کو ہٹانا ہوگا۔ جماعت اسلامی کی تحریک کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں عوام پر زبردستی مسلط کی گئی ہیں، جب کہ کسانوں، مزدوروں اور طلبہ سمیت پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوں سے بھی پٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمرانوں نے جاگیرداروں اور اشرافیہ کو مراعات دے رکھی ہیں اور عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کی پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک عوام کو ریلیف دلانے تک جاری رہے گی اور ملک میں موجود اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
حکمران ناکام ہوچکے، جماعت اسلامی انقلاب لائے گی: صدر نیشنل لیبر فیڈریشن

راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمان سواتی نے کہا ہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے قوم کو شعور دیا اور نوجوانوں کو باصلاحیت بنانے کے لیے کردار ادا کیا۔
شمس الرحمان سواتی کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز اور پٹرولیم لیوی کے خلاف آواز اٹھائی جب کہ مزدوروں اور کسانوں کو جینے کا حق دلانے کے لیے تحریک چلائی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 83 فیصد مزدوروں کے لیے کوئی قانون موجود نہیں، جب کہ پنجاب میں بھی مزدوروں کی اجرت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں، جس کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران ناکام ہوچکے ہیں اور جماعت اسلامی ملک میں انقلاب لائے گی۔
شمس الرحمان سواتی نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی کال پر ملک گیر ہڑتال
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی کال پر ملک کے مختلف شہروں میں ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس کے باعث متعدد علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں
جماعت اسلامی کی جانب سے ہڑتال کا مقصد عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنا اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا قرار دیا گیا ہے۔

ہڑتال کے دوران مختلف شہروں میں تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ شہریوں اور تاجروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین اور ہڑتال کی حمایت کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے اثرات براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہے ہیں، ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف سفری اخراجات بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔
شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی یا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی اور دیگر بنیادی اخراجات کے دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
ہڑتال کے موقع پر جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور معاشی پالیسیوں میں عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
جماعت اسلامی کو راولپنڈی میں جلسے کی اجازت مل گئی

راولپنڈی میں جماعت اسلامی اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، جس کے بعد انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت دے دی۔
جماعت اسلامی اور ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے درمیان جلسے کے حوالے سے معاملات طے پاگئے ہیں، جس کے بعد لیاقت باغ کے گیٹ کھول دیے گئے۔
جماعت اسلامی نے جلسے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، جب کہ کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم، لائٹس اور دیگر ضروری سامان لیاقت باغ پہنچا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر جماعت اسلامی نے مری روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔
انتظامیہ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد جماعت اسلامی نے لیاقت باغ میں جلسے کی تیاریاں تیز کردی ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے دھرنے اب 25 کروڑ عوام کے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک ملک بھر میں پھیل چکی ہے، دھرنوں کو دو ہفتے مکمل ہوگئے ہیں اور اب 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، حکومت مطالبات نہ مانے تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔
لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران یہ سمجھ رہے تھے کہ جماعت اسلامی کے کارکن دو چار دن میں واپس چلے جائیں گے، لیکن ہمارے دھرنے اب 25 کروڑ عوام کے دھرنے بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور چترال سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں عوام مہنگائی، مہنگی بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج ملک کی مائیں گھر چلانے کے لیے پریشان ہیں، عوام کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے نہیں، جب کہ حکمران طبقہ عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی اور تاجروں و صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال حکمرانوں کے لیے نوشتہ دیوار بن جائے گی۔ حکومت ہڑتال کے بعد بھی مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ہم نکل پڑے تو کوئی روک نہیں سکے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے۔ جماعت اسلامی کی تحریک کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔
بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 49 ہزار میگاواٹ ہے جب کہ موجودہ کھپت تقریباً 21 ہزار میگاواٹ ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کیوں کی جارہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ عوام ایک طرف بجلی کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ بجلی کے شعبے میں موجود مسائل، آئی پی پیز اور کیپسٹی چارجز کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جارہا ہے۔
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں ملک کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ پٹرول کے فی لیٹر پر تقریباً 130 روپے کے ٹیکسز اور دیگر چارجز عائد ہیں، جن میں تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں اور اب مزید معاشی بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف دیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومتی اخراجات اور سرکاری مراعات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران اور حکمران طبقے کے لیے مفت پٹرول کی سہولت ختم کی جائے، جس سے ملک کو سالانہ 380 ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہ کرے اور حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں ختم کرے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ چھوٹی گاڑیاں چلانے سے کوئی مر نہیں جائے گا، حکمرانوں کو عوام کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مریم نواز کے طیارے اور چیئرمین سینیٹ کی گاڑی فروخت کرکے عوام کو ریلیف دینے کی تجویز بھی دی، تاہم ان کے بعض مالی دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت لیوی کم نہ کرنے کا جواز پیش کرنے کے بجائے اپنی عیاشیاں ختم کرے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کو مراعات حاصل ہیں جبکہ عام آدمی کے لیے کاروبار کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ اور مزدوروں سے ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن بڑے جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسران اور وزرا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، انہیں 1300 سی سی کی گاڑیوں میں سفر کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ حکومت اپنی غیر ضروری مراعات اور اخراجات کم کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی سفری سہولیات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میٹرو بس بنا کر حکمران سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں زیر زمین ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ان کے بقول حکومت چند نمائشی اقدامات کرکے شوخیاں مارتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ڈھائی کروڑ موٹرسائیکلیں ہیں لیکن حکمران موٹرسائیکل سواروں پر بوجھ ڈال رہے ہیں اور بڑے طبقے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں مربع اراضی رکھنے والے مالکان سے بھی مناسب ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا جبکہ چھوٹے کسانوں پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں رقم عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے صنعتیں تباہ کردی ہیں اور غریب مشکلات کا شکار ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام ہونا ہے، لیکن انتظامیہ نے لیاقت باغ کو تالے لگا دیے ہیں اور اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق کارکن تالے توڑ کر اندر جانے کے لیے تیار تھے تاہم جماعت اسلامی نے انہیں روک دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دی تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سڑکیں بند کرنے کی نوبت آئی تو اس کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی۔
عوام پر معاشی بوجھ ناقابلِ قبول، 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں، ٹیکسز اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک پورے ملک میں جاری ہے، تحریک کو گلی محلوں اور مارکیٹوں کی سطح تک وسعت دی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک بھر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس کے لیے جماعت اسلامی کے کارکنان مارکیٹوں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں کے تاجر رہنماؤں اور صدور نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، جماعت اسلامی عوام کو ان معاشی مسائل سے آگاہ کر رہی ہے جن کے اثرات براہِ راست عام شہریوں، طلبہ، مزدوروں اور کاروباری طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور تقریباً 50 لاکھ گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں، جن کے مالکان کو پیٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکسز اور لیویز کی صورت میں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طالب علم یا عام شہری جب موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتا ہے اور اس قیمت میں بھاری ٹیکس شامل ہوتا ہے تو یہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے بلوں میں شامل کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا، عوام کو ایسی بجلی کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جو انہوں نے استعمال نہیں کی۔
ان کے مطابق چند آئی پی پیز کو 1700 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئی ہیں، جبکہ عوام پہلے ہی مہنگی بجلی اور بھاری بلوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکمران طبقے کے اخراجات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام شہریوں اور طلبہ پر ٹیکسز کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ حکمران طبقے کی مراعات اور اخراجات پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ارب پتی طبقے کے بوجھ کا اثر عام لوگوں، طلبہ اور کم آمدنی والے طبقات پر پڑ رہا ہے، حکومت کو ایسی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی جن سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے عوام میں معاشی مسائل کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا رہا ہے اور کارکنان ملک کے مختلف شہروں میں گلی محلوں اور مارکیٹوں تک جا کر لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے شہریوں اور تاجروں سے اپیل کی کہ 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنایا جائے اور صرف بڑی مارکیٹوں ہی نہیں بلکہ گلی محلوں کی دکانیں بھی بند رکھی جائیں۔
انہوں نے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی نمائندے آکر بات کرنا چاہیں تو جماعت اسلامی بات چیت کے لیے تیار ہے، جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستانی عوام کی زندگی آسان ہو۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پشاور میں جاری دھرنا اب مزید دھرنوں میں تبدیل ہوگیا ہے، جبکہ حیدرآباد، خیبر پختونخوا اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاجر برادری کی جانب سے تحریک کو مثبت ردعمل مل رہا ہے اور عوام بھی جماعت اسلامی کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو "معاشی دہشت گردی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نہیں نکالا جا رہا، جبکہ بعض بااثر شعبوں اور مافیاز کو ریلیف دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک میں ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی شامل ہونا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ آواز بلند کی جاسکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ بھاری لیویز اور عوام پر عائد اضافی مالی بوجھ ختم کیا جائے، بجلی کے بلوں میں غیر ضروری چارجز پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال کے بعد جماعت اسلامی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور اس کا بنیادی مقصد حکومت کو عوامی مسائل کے حل اور معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے مجبور کرنا ہے۔






