پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پی او ایف واہ پہنچنے پر حکام کی جانب سے استقبال کیا گیا، جبکہ دورے کے دوران انہیں پاکستان کے اہم دفاعی صنعتی ادارے کی مختلف سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بریفنگ میں پی او ایف کی موجودہ پیداواری استعداد، دفاعی ضروریات پوری کرنے میں ادارے کے کردار اور ملکی سطح پر مختلف اقسام کے فوجی سازوسامان کی تیاری کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پی او ایف میں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ٹیسٹنگ اور آزمائشی مراحل کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہیں دفاعی مصنوعات کے معیار، پیداواری عمل اور تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران پی او ایف کی جانب سے دفاعی پیداوار میں جدت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خود انحصاری کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

بریفنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ڈیفنس انڈسٹری پروڈکشن ریفارمز ایکٹ (ڈیپرا) آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کی کارپوریٹائزیشن کے عمل میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ پی او ایف میں مقامی پیداوار کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے اور صنعتی استعداد میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں دو نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے، جن سے رواں سال کے اختتام تک پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق نئے صنعتی منصوبوں کا مقصد دفاعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مقامی صنعتی مہارت کو فروغ دینا ہے، جس سے ملکی دفاعی صنعت کی مجموعی صلاحیت میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔
دورے کے دوران پی او ایف کی برآمدی استعداد اور دفاعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ملکی دفاعی ضروریات کے لیے مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پی او ایف کی دفاعی پیداوار، تکنیکی جدت اور خود انحصاری کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دفاعی صنعت میں مقامی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پیداواری نظام کی اہمیت پر زور دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دورے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار، تکنیکی ترقی، صنعتی استعداد اور خود انحصاری کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ ملکی دفاعی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے ساتھ دفاعی صنعتی بنیاد کو بھی مضبوط بنایا جاسکے۔







