لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ دھرنوں میں شریک افراد صرف جماعت اسلامی کے کارکن نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے مسائل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تین مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے تاہم اب احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں ملک گیر احتجاجی کیمپ بھی لگائے جارہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے خلاف جاری تحریک میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں، مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر مرتبہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر عوام پر بوجھ ڈالتی ہے، لیکن گزشتہ چند روز کے دوران عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غریب عوام پر عائد اضافی بوجھ قرار دیا، شہری پٹرول پر بھاری ٹیکس اور لیوی ادا کررہے ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ عوام کی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے اخراجات اور حکمرانوں کے طرز زندگی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عوام پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں جبکہ حکومتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے اپنے اخراجات ایک ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب عام شہری مہنگے پٹرول، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مریم نواز کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری وسائل سے طیارہ خریدنے کے دعوے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم ان کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: 3 ستمبر کی ہڑتال کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ آئے گا: حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر مزید معاشی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو پٹرول اور بجلی کے شعبے میں فوری ریلیف دیا جائے۔

بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں اور ان کا بجلی کے اصل استعمال سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 49 ہزار 500 میگاواٹ سے زیادہ ہے، جبکہ موجودہ دنوں میں بجلی کی طلب 22 ہزار میگاواٹ سے زیادہ نہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے تو پھر لوڈشیڈنگ اور شارٹ فال کیوں پیدا ہورہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار کے نظام میں موجود مسائل اور کیپسٹی چارجز کے باعث عوام کو بھاری بلوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ بجلی کی پیداوار کے ایک بڑے حصے میں فیول استعمال ہوتا ہے، اس لیے توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی اور پیداواری نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں، ٹیکسز، پٹرولیم لیوی اور دیگر عوامی اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

حافظ نعیم الرحمان نے سیاسی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے حکومت کی انتخابی حیثیت پر سوال اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومتیں عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل تک اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی اور دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر عوامی احتجاج میں مزید شدت آسکتی ہے۔