یہ پیش رفت وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سوئی میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران سامنے آئی۔ نور خان بگٹی گزشتہ 20 سال سے پہاڑوں میں روپوش تھے اور ماضی میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ قومی دھارے میں واپسی کے بعد نور خان بگٹی اپنے خاندان سمیت سوئی میں آباد ہوں گے۔

نور خان بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی واپسی کو علاقے میں امن و امان کی بہتری اور پائیدار استحکام کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاستِ پاکستان کے ساتھ وفاداری، آئین و قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی ہی پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے ہر علاقے میں امن و استحکام کا قیام قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ریاست کی رِٹ کو تسلیم کرنا اور تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں واپس آنا ناگزیر ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوکر ہی عوام کے جان و مال کا تحفظ، معاشی ترقی، تعلیم کا فروغ اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد اور بدامنی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ قومی تعمیر و ترقی کا راستہ امن، باہمی اعتماد، قانون کی بالادستی اور اجتماعی کوششوں سے ہوکر گزرتا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتیں قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ قومی دھارے میں واپسی اور ریاست کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ صرف متعلقہ افراد بلکہ ان کے خاندانوں اور علاقے کے مستقبل کے لیے بھی مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جبکہ قومی یکجہتی، قانون کی پاسداری اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون بھی ضروری ہے۔