لاہور میں سی ایم ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنا پشاور، کراچی اور لاہور میں جاری ہے، جب کہ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کی ترجمانی کر رہا ہے۔
انہوں نے لاہور کے نوجوانوں سے دھرنے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر وکیل، ڈاکٹر، کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم کا دھرنا ہے، جب کہ مدارس کے طلبہ بھی دھرنے میں شریک ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جس کو تکلیف ہوتی ہے ہوتی رہے، عوام اپنے حقوق کے لیے دھرنے میں آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر شاہی فرمان جاری کرے گی کہ اسلام آباد آجائیں تو جماعت اسلامی شاہی فرمان پر اسلام آباد نہیں جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد آکر کسی کی بریفنگ نہیں لیں گے، اگر حکومت نے بات کرنی ہے تو دھرنے میں آکر کرے، ہم سب کو عزت دیتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، جب کہ حکومت نے جنگ کے دوران بھی پٹرول کی قیمت، ٹیکسز اور لیوی میں اضافہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک 8 ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کیے جاچکے ہیں، تاہم آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پر 100 ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آئل ریفائنریز پر مطلوبہ سرمایہ کاری نہ کرنا پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔
آئی پی پیز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور سے آئی پی پیز کا سلسلہ شروع ہوا، جب کہ زرداری اور شریف خاندان کے اسٹیک ہولڈرز بھی آئی پی پیز میں شامل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض آئی پی پیز ایسے ہیں جو گنے کے پھوگ سے چلتے ہیں لیکن شو امپورٹڈ کوئلے سے کرتے ہیں، پلانٹ لگانے کے پیسے بھی حکومت نے دیے، بینکوں سے سود کے ساتھ قرضے لیے گئے اور ان قرضوں کی ادائیگی صارفین نے کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ جو بجلی پیدا ہی نہیں ہوئی اس کی قیمت بھی عوام نے ادا کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی صارف مسلسل چھ ماہ تک 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرے تو وہ پروٹیکٹڈ صارف ہوتا ہے، تاہم ایک ماہ بھی 200 سے زائد یونٹ استعمال کرنے پر وہ اس فہرست سے باہر ہوجاتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کے لیے آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے، تاہم آئی ایم ایف غلامی کا ایک طوق ہے جو حکمرانوں نے اوڑھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بائیکیا، فوڈ سپلائی سے وابستہ افراد، صحافی، کسان اور مزدور بھی لیوی اور ٹیکسز کی صورت میں حکومت کو رقم ادا کر رہے ہیں، جب کہ طالب علم براہِ راست ٹیکس نہ دینے کے باوجود بالواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 79 سال سے ایک طبقہ پاکستان پر حکومت کر رہا ہے اور اب خود اعتراف کرلیا گیا ہے کہ سسٹم کولیپس کرچکا ہے۔ اگر سسٹم کولیپس کرگیا ہے تو پھر عوام کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دن آئے گا جب عدالتی نظام کے تحت قومی وسائل کے غلط استعمال اور عوام پر بوجھ ڈالنے والوں کا بھرپور احتساب ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور حکومت کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت باتیں ہو چکی ہیں، اب لیوی کا خاتمہ ہوگا، روٹی 10 روپے کی ہوگی۔







