حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کے بجائے اپنے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ نااہل طبقے کے فیصلوں کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں اور عام آدمی کے لیے مہنگائی کے موجودہ حالات میں زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی فوری ختم کرے اور جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ اگر حکومت نے لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی سڑکوں پر بیٹھنے سمیت احتجاج کے مزید اقدامات کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول پر عوام کی جیب پر 33 فیصد بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ طالب علم بھی پٹرول کی ہر لیٹر خریداری پر اضافی رقم ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں، آئی پی پیز مافیا عوام کا خون چوس رہا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں کمی کی راہ ہموار ہوئی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا، جماعت اسلامی کا مقصد کسی فرد یا حکومت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ عوام کے مسائل حل کرانا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے گندم کی قیمتوں اور درآمد و برآمد کی پالیسی پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، پہلے گندم درآمد کی گئی اور بعد میں اسے سستے داموں برآمد کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں درآمد کی گئی گندم کا تاحال مکمل حساب سامنے نہیں آسکا۔ حکومت کی جانب سے گندم کی ایکسپورٹ کی اجازت دینے کے فیصلے نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق کمپنیاں مقامی تیل کے باوجود صارفین سے درآمد شدہ تیل کے حساب سے قیمتیں وصول کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں عوام سے اضافی وصولیاں بند کی جائیں اور حکومت فوری طور پر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے دوران سیرت کانفرنسز بھی منعقد کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی جائے گی، جبکہ یہ ہڑتال ستمبر کے پہلے ہفتے میں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے اگلے اور اہم لائحہ عمل کا اعلان آج رات کیا جائے گا

امیر جماعت اسلامی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بیت المقدس کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح پیغام دینا چاہیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل شام پر بھی حملے کر رہا ہے اور کہا کہ صہیونی قوتیں کسی قانون یا معاہدے کو تسلیم نہیں کرتیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایسے معاملات کو نہیں چھیڑا جانا چاہیے جن سے قوم میں مزید تقسیم پیدا ہو، موجودہ حالات میں قومی یکجہتی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ایسی صورتحال میں قوم کو یکجا کرنے اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی دھرنا جاری ہے، تاہم مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے، حکومت اور متعلقہ فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سبزیوں سمیت روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہوچکی ہے اور عام شہری کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل اور حقیقی ریلیف کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، آئی پی پیز کے غیر منصفانہ معاہدوں پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ انا کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔