سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پی ٹی آئی کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے اور اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جانا تھا، جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن کو بھی شامل کیا جائے گا، سپریم کورٹ کا حکم قابلِ عمل ہے اور بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ضروری میڈیکل ٹیسٹ کرائے جائیں اور ان کی صحت کا مکمل جائزہ لیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متعلقہ حکام کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک جملے کو لے کر اصل مدعے سے ہٹا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی کے منتخب کردہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کسی ایک فرد کے قریبی نہیں بلکہ صوبے کے تقریباً 4 کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو ہیں، سیاسی معاملات کو ذاتی وابستگیوں کے بجائے عوامی مینڈیٹ اور آئینی ذمہ داریوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے ہے، اس لیے ان کی صحت اور قانونی معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے اپیل کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کو سنجیدہ لیا جائے اور انہیں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر کسی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور توہین عدالت کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت بانی پی ٹی آئی سے متعلق کیس کو سماعت کے لیے مقرر کرے گی اور عدالتی احکامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔