عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے تین پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان یہ رابطہ گزشتہ ہفتے ہوا، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو پہلے منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔

رائٹرز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ گفتگو میں امریکی صدر کی بنیادی درخواست یہ تھی کہ پاکستان ایران پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں مدد کرے۔

خیال رہے کہ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا ایران کے خلاف سخت ترین معاشی اقدامات کی تیاری کر رہا تھا اور صدر ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی معاشی نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی جو ایران کو کسی بھی قسم کا سہارا فراہم کریں گے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی معاشی دباؤ کے جواب میں خلیج سے تیل کی برآمدات روکنے تک کی دھمکی دے رکھی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

تہران میں عاصم منیر کا مشن کیا ہے؟

پاکستانی فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران دورے کو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ دورے کا مقصد امن و سلامتی کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

تہران پہنچنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور فریقین کے درمیان مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے علاوہ ایران سے منسلک حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے حالیہ باہمی دفاعی معاہدے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ باہمی اعتماد کا فقدان ہے اور عاصم منیر کی کوشش ہوگی کہ دونوں جانب پائے جانے والے عدم اعتماد کو کم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: آج سے ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی کا آغاز کررہے ہیں: امریکی وزیرخزانہ

یاد رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوشش کر چکا ہے۔ جون میں اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک عبوری معاہدہ بھی سامنے آیا تھا، تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے یہ کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔

ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی گفتگو اور اس کے فوراً بعد آرمی چیف کا تہران پہنچنا اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے جب واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور تہران آبنائے ہرمز سمیت سخت جوابی اقدامات کی دھمکیاں دے رہا ہے۔