میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد نورین نیازی سے فون پر رابطہ ہوا تھا، نورین نیازی نےملاقات کےاحوال کا ذکرنہیں کیا اور نورین نیازی نے کہا تھا کہ وہ باہربات نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ نورین نیازی اوربانی پی ٹی آئی کی ملاقات سے متعلق من گھڑت خبریں چل رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی یا قیادت کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ ملاقات سے نورین نیازی خوش تھیں، کچھ چیزیں شیئرنہیں کی جا سکتیں۔ خیال رہے کہ 18 اگست کو اڈیالہ جیل میں نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات کرائی گئی تھی۔

اس سے قبل راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ لاہور میں اسیران کی فیملیز سے ملاقات ہوئی، نورین نیازی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ہم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی چونکہ بیمار ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ان کی رہائی جلد ہو۔ ہم نے بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردان جلسے میں اچکزئی صاحب کیوں نہیں آئے، اس بارے میں ان سے ابھی بات نہیں ہوئی۔ سہیل آفریدی سے میری ملاقات ہوئی ہے، اس کی تفصیل نہیں بتا سکتا۔ اچکزئی صاحب کو بانی نے ذمہ داری دی ہے اور بانی کی ہدایات ہیں کہ اچکزئی صاحب جو فیصلہ کریں گے، انہیں فالو کرنا ہے۔ اگر اچکزئی صاحب کی کوئی ناراضی ہے تو ہم اسے دور کریں گے۔ سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں، پی ٹی آئی کا مؤقف قیادت پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ہر منگل کو ہم اڈیالہ جیل آتے ہیں، مگر 16 اکتوبر 2025 کے بعد ہماری ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔ اتنی بڑی پارٹی کے لیڈر کی ملاقاتیں روکنا جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور اس ملک کو عزت ملے۔ ہمیں خوشی ہے کہ دنیا کے بڑے رہنما صلح کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ آپسی تناؤ ختم ہونا چاہیے، ورنہ یہ تناؤ نفرت میں بدل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست ہے کہ فیملی اور وکلا کی ملاقات کرائی جائے۔ خوشی ہے کہ بشریٰ بی بی کی سرجری کے بعد ان کی فیملی سے ملاقات ہوئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بشریٰ بی بی کی مکمل صحتیابی تک انہیں اسپتال منتقل کیا جائے۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو۔ اپنوں کو نہ جوڑ کر صرف دوسروں کی صلح کرا کے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر ہمارا واضح مؤقف ہے کہ اسے ختم ہونا چاہیے اور دہشت گردوں کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی کی فیملی ہمارے لیے قابلِ عزت ہے، ہم سے جو کچھ بن پڑ رہا ہے ہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل کے جلسے کو منسوخ کرنے سے متعلق خان صاحب کا پیغام آیا تھا۔ بانی کی فیملی کو نہ سیاست کا شوق ہے اور نہ وہ کسی عہدے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ بانی کی رہائی کے لیے جاری کوششوں پر فیملی کو تشویش ضرور ہے۔ سب کو کہا ہے کہ جو بھی بات ہو پارٹی کے اندر کریں، باہر نہ کریں۔ بانی کی بہنوں کے حوالے سے کسی کو سخت لہجہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ میں جب سے چیئرمین ہوں، علیمہ خان نے کبھی کوئی ہدایات مجھے نہیں دیں۔ علیمہ خان نے جب بھی مجھ سے بات کی، بانی سے متعلق کی ہے۔