وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کے دورۂ برطانیہ کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، عالمی امور اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔
اسحاق ڈار برطانوی حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا
وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن، آئی ایم او، کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔
ملاقات میں علاقائی بحری سلامتی، سمندری راستوں کے تحفظ اور خطے میں بحری چیلنجز سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ اس موقع پر صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی عملے کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔
پاکستانی وزیر خارجہ عالمی ادارے کے سربراہ کے سامنے پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور ان کی بحفاظت واپسی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ سمندری قزاقی کے واقعات کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
اسحاق ڈار دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے درمیان تعاون اور پاکستان کے کردار سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جائے گی
ملاقات میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز، معاشی تعاون، عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات اور دولت مشترکہ کے پلیٹ فارم کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے امور زیر غور آسکتے ہیں
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سفارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے موجودہ شعبوں کا جائزہ لینے کے ساتھ نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ علاقائی صورتحال اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے نئے چیلنجز بھی ملاقاتوں کے ایجنڈے کا حصہ ہوں گے
وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار 28 اگست تک برطانیہ میں قیام کریں گے، جہاں ان کی مختلف اہم شخصیات اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دورہ برطانیہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اہم علاقائی و عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے اہم موقع فراہم کرے گا۔







