امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مختلف راستے اختیار کرسکتا ہے، ایران پر دباؤ ڈالنے کے مؤثر طریقوں میں اسے تیل اور گیس کی تجارت میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی قیمت چکانے پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، تاہم تہران کے لیے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو مکمل طور پر بند کرنا ممکن نہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق آبنائے ہرمز خطے میں تیل کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 70 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل کی ترسیل جاری رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تیل کی ترسیل عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی سطح پر معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی اور دباؤ بڑھانے کے لیے کئی طریقے موجود ہیں اور واشنگٹن صورتحال کے مطابق مناسب آپشن استعمال کرسکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران کی جانب سے خطے میں تجارتی اور توانائی کے راستوں کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی منڈیوں میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات پہنچانے کا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور توانائی کی فراہمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم امریکی نائب صدر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے ایسے کسی بھی اقدام سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہا ہے۔







