قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے وقت اپنے ماضی کے فیصلوں اور پالیسیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے، کسی بھی جماعت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں کو نظرانداز کرکے خود کو تمام تر ذمہ داریوں سے مبرا قرار دے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق فیصلے سے پہلے حکومت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، مذاکرات کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون کو مؤثر بنانا ہونا چاہیے تھا، لیکن حالات کی سنگینی کے باعث حکومت کو غیر معمولی اقدامات پر غور کرنا پڑا۔
خواجہ آصف نے سابق دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی ایوان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی موجودگی میں دہشت گردوں کو واپس لانے کے معاملے کی حمایت کی گئی تھی، قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر بحث کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اپنے سابقہ مؤقف اور اقدامات کا بھی جواب دینا چاہیے۔
وزیر دفاع نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی واپسی کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور ریاستی فیصلوں پر بات کرتے وقت ماضی کے واقعات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے یک طرفہ مؤقف اختیار کرنے کے بجائے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہی ہے، اس لیے صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف وفاقی حکومت یا سیکیورٹی اداروں سے منسوب کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کی کارکردگی، انتظامی فیصلوں اور ماضی کی حکمت عملی کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بھی قید کے دوران مشکلات کا سامنا کیا، تاہم ان کے بقول ان کی رہائی کے لیے ڈی چوک پر احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ خواجہ آصف نے اس معاملے کو سیاسی احتجاج کے طریقہ کار سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے اظہار کے لیے ایسے راستے اختیار کیے جانے چاہییں جن سے امن و امان متاثر نہ ہو۔
انہوں نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مختلف معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے لچک دکھائی اور بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی، مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنیادی ترجیح ہونا چاہیے تھا، کیونکہ ملک میں پائیدار امن کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کا ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے۔
خواجہ آصف نے طالبان کی جانب سے ایمرجنسی کے فیصلے اور بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان کے مخالفین اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا، دہشت گرد حملوں میں پاکستانی شہریوں اور بچوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں، اس لیے اس مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف سیکیورٹی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مؤثر انتظامی اقدامات، سیاسی تعاون اور عوامی اعتماد کی بحالی سے بھی ممکن ہے، صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے، ملک میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے، غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے







