رپورٹس کے مطابق احتجاج کی قیادت نوجوانوں کی حکومت مخالف تحریک ’کاکروچ‘ اور اس سے وابستہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کررہی تھی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ ناقدین الزام عائد کرتے ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ الزامات ناقدین کے مؤقف پر مبنی ہیں۔
بھارتی میڈیا اور خبر رساں اداروں کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، پولیس نے نئی دہلی کے مرکزی کاروباری علاقے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ ٹیلی ویژن مناظر میں پولیس اہلکاروں کو بیگ اٹھائے نوجوانوں کا تعاقب کرتے اور انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر لے جاتے دیکھا گیا۔ حکام نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور سابقہ مظاہروں کے دوران مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا۔
رپورٹس میں مختلف مقامات پر حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد الگ الگ بتائی گئی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مختلف گروہوں کی صورت میں آنے والے تقریباً 500 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ تقریباً 50 افراد کو احتیاطی طور پر پکڑا گیا۔ پولیس کے ایک اور بیان کے مطابق، کنالٹ پلیس کے علاقے سے مزید لگ بھگ 200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان اعدادوشمار میں ممکنہ طور پر مختلف کارروائیوں کے دوران پکڑے گئے افراد شامل ہیں، اس لیے مجموعی تعداد کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
حراست میں لیے جانے والوں میں تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے، دیگر رہنما اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے نام بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس کارروائی کے دوران بیریکیڈز، گاڑیوں کی تلاشی، ڈرون نگرانی اور عارضی ہولڈنگ سینٹرز استعمال کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق بعض اسٹیڈیمز کو بھی حراست میں لیے گئے افراد کو رکھنے کے لیے عارضی مراکز میں تبدیل کیا گیا۔
احتجاجی تحریک کا ایک اہم مطالبہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے علاوہ دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر کو دوبارہ مظاہروں کے لیے کھولنا بھی ہے۔ اس معاملے نے بھارت میں شہریوں کے حقِ احتجاج، سیاسی اختلافِ رائے اور عوامی اجتماعات کے لیے مخصوص مقامات کی دستیابی سے متعلق بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کے بعد ایک حکم نامے کے ذریعے اس مقام کی احتجاجی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ جگہ کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی، سماجی اور شہری تحریکوں کا مرکز رہی ہے، جہاں طلبہ، مزدور تنظیمیں، سابق فوجی، خواتین کے حقوق کی کارکن اور بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے افراد اپنے مطالبات پیش کرتے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں جنتر منتر کو احتجاج کے لیے اہم مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مرکزی محلِ وقوع مظاہرین کو پارلیمنٹ، سرکاری وزارتوں اور میڈیا اداروں تک رسائی دیتا تھا، اس مقام کی حیثیت ختم کرنے سے اختلافی آوازوں کے لیے دستیاب جگہ محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب پولیس نے اپنے فیصلے کے دفاع میں سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیا، جن کے مطابق احتجاج کے لیے مناسب متبادل مقامات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، دہلی میں مظاہروں کے لیے متبادل مقامات موجود ہیں، جن میں شہر کے مضافات میں دو مقامات اور مرکزی علاقے کے قریب رام لیلا میدان شامل ہیں، جہاں بڑے اجتماعات منعقد کیے جاسکتے ہیں۔
تاہم، احتجاجی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ جنتر منتر جیسے مرکزی مقام سے مظاہروں کو دور منتقل کرنے سے عوامی شرکت اور میڈیا کی توجہ متاثر ہوسکتی ہے، دوسرے شہروں اور دور دراز ریاستوں سے آنے والے شہریوں کے لیے طویل سفر اور اضافی اخراجات بھی احتجاج میں شرکت مشکل بنا سکتے ہیں۔
کاکروچ تحریک کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کے خلاف احتجاج اس سے قبل بھی شدت اختیار کرچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس جولائی میں ہزاروں طلبہ مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر جمع ہوئے تھے اور انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی تھی۔ اس دوران احتجاجی مقام پر حکومت مخالف نعرے اور پیغامات بھی نمایاں رہے۔
حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب پولیس نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر میں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل دو اہم رہنماؤں کو بیریکیڈز عبور کرکے احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش پر بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے حراست میں لیے جانے سے قبل کہا تھا کہ جنتر منتر محض ایک جگہ نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت ہے۔ دوسری جانب مظاہرین نے پولیس پابندیوں کے باوجود احتجاج جاری رکھنے اور سول نافرمانی کا راستہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
نئی دہلی میں ہونے والی یہ کارروائیاں اب صرف ایک احتجاج تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کے ذریعے انتخابی عمل پر اعتماد، شہری آزادیوں اور عوامی اجتماعات کے حق سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ تاہم ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پولیس کارروائی سے متعلق مختلف دعوؤں کا حتمی جائزہ مستند سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ تصدیق کی روشنی میں ہی لیا جاسکتا ہے۔







