سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق اقدامات آئینی طریقہ کار کے تحت کیے گئے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے آئین کی ایک ایک شق کا جائزہ لیا کہ کہیں اس کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی۔
انہوں نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ گورنر راج کے معاملے پر کوئی کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو جائزہ لے کہ اس اقدام سے آئین کی کس شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے اور اس اقدام کو درست یا غلط قرار دینے سے پہلے متعلقہ آئینی شقوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
وزیر داخلہ کے مطابق پارلیمنٹ میں ہونے والے مذاکرات کا آغاز دہشت گردی کے معاملے پر ہوا تھا اور ابتدائی سات سے آٹھ نکات اسی موضوع سے متعلق تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن رہنما اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے اور خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرنے کی ذمہ داری لینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران تجاویز کے مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور آخری مرتبہ تجویز کردہ چھ تبدیلیاں بھی قبول کرلی گئیں۔ حتمی مسودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھیجا گیا، جس کے بعد اسے مراد سعید تک پہنچایا گیا اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا اختیار 26 نومبر سے پہلے بھی موجود تھا، تاہم حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ آخری رات تقریباً پونے بارہ بجے تک اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا اور حکومت ایسا نہیں چاہتی تھی، تاہم حالات کے باعث یہ قدم ضروری ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے معاملے سے الگ رکھتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بعض افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے ہیں اور اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ ضرورت پڑنے پر یہ شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں۔ دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں ملوث افراد افغانستان سے آتے ہیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وفاق کا ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور حکومت خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔







