پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کے جھنڈے اور قومی ترانے کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اپنانا ہوگا۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں اور سیاسی رہنما بھی ملک کی وجہ سے ہیں۔ کوئی یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ اگر اس کا لیڈر نہیں ہوگا تو پاکستان بھی نہیں ہوگا، اس قسم کی سوچ ناقابل قبول ہے اور قومی مفادات کو سیاسی وابستگیوں پر ترجیح دینا ضروری ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ عوام کو جھوٹے نعروں اور روایتی سیاسی طرزِ عمل سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے، جمہوریت کے نام پر عوام کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ جمہوریت کا اصل امتحان عملی کارکردگی ہے۔ عوام کو اس بات سے غرض نہیں کہ سیاسی رہنماؤں نے کیا کہا، بلکہ انہیں اپنے مسائل کا حل اور زندگی میں بہتری چاہیے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی صورت حال کا جائزہ لیا جانا چاہیے، صوبے کے عوام کو نعروں کے بجائے ایسے اقدامات درکار ہیں جن سے ان کی روزمرہ زندگی میں واضح فرق پڑے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کسی بھی صوبے کو کسی سیاسی رہنما کی جاگیر نہیں سمجھا جا سکتا اور عوامی مسائل حل کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

نئے سیٹ اپ کے حوالے سے فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ان کی کابینہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں امید ہے کہ گورنر اور ان کی ٹیم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق 180 دن کا ہدف محض وقت گزارنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس مدت میں عوام کو کارکردگی کے واضح نتائج نظر آنے چاہییں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ نئے سیٹ اپ کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں اور کابینہ میں شامل افراد کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔ جو افراد نتائج دیں انہیں آگے لایا جائے، جبکہ ناکام رہنے والوں کو عہدوں پر برقرار رکھنے کے بجائے بہتر کارکردگی دکھانے والے افراد کو موقع دیا جائے، عوام کو یہ بتانے کے بجائے کہ کام کیوں نہیں ہو سکا، حکام کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ انہوں نے کیا اقدامات کیے اور ان سے عوام کو کیا فائدہ پہنچا۔

دہشت گردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران فوج، پولیس اور عام شہری قربانیاں دے رہے ہیں، اس جنگ میں اب تک ساڑھے سات ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، شہدا کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے سیاسی نعرے لگانا مناسب نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی تعاون اور قومی اتحاد ضروری ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت صرف بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اگر تمام سیاسی قوتیں دہشت گردی کے خاتمے کی خواہش رکھتی ہیں تو انہیں عملی طور پر بھی ریاستی اقدامات کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں اور خارجی عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 155 فیصد اضافے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے سیاسی حمایت ناگزیر ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تعاون کرنا ہوگا۔

فیصل واوڈا نے فوج کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ معیشت کو سہارا دینے اور سرمایہ کاری لانے میں بھی کردار ادا کر رہی ہے، جب فوج کامیابیاں حاصل کرے تو سیاسی قیادت کو ان کا اعتراف کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، فوج ملک کا دفاعی نظام ہے اور اس کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کے سرپرستوں اور ان سے رابطے رکھنے والے عناصر کے حوالے سے شواہد موجود ہیں، دہشت گردوں سے رابطوں اور ان کے ساتھ بات چیت کے معاملات کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان مخالف بیانیے اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سے متعلق شواہد سامنے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ تاہم انہوں نے پریس کانفرنس میں ان دعوؤں کے حوالے سے تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی، قومی سلامتی اور ریاستی معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے الگ رکھنا ہوگا، پاکستان کی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ملک کے دفاع کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان کا کوئی صوبہ ٹوٹنے جا رہا ہے اور کہا کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کی سیاسی صورت حال پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے بعض رہنما ساتھ رہیں گے جبکہ کچھ افراد الگ ہو سکتے ہیں، پی ٹی آئی کی سیاسی صورت حال پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، سیاسی جماعتوں کے لیے محض نعروں کے ذریعے عوام کو متحرک کرنا اب آسان نہیں رہا اور انہیں عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ 600 افراد کے ذریعے 25 کروڑ عوام کے ملک کو فتح کرنے کے دعوے کرنے والوں کو اپنی سیاسی حیثیت کا اندازہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کو اہمیت دیں، عوام اب اسی قیادت کو ترجیح دیں گے جو ان کے مسائل حل کرے اور انہیں حقیقی ریلیف فراہم کرے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ان کے آٹھ دوست ان کے مہمان تھے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ فیصل واوڈا کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ معاملات ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلنے چاہییں، حکومت اور سیاسی قیادت کو اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرکے اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا، پاکستان کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے دوبارہ مؤثر بنانے اور پرانے طریقہ کار میں ضروری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں سے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں ذاتی روابط اور اعتماد کے ذریعے بھی پیشرفت ممکن ہوتی ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے مجوزہ اقدامات اور ریلیف کی تفصیلات سیاسی قیادت کے سامنے رکھی جائیں گی تاکہ مسائل کے حل کے لیے تعاون حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے سیاسی قیادت کو باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ نئی نسل کو قائداعظم کے پاکستان کا تصور اور ملک کی تاریخ سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ نوجوان قومی مفادات، آئینی اصولوں اور ملکی ترقی کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا کے نئے سیٹ اپ کی کامیابی کو عوامی ریلیف اور عملی کارکردگی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کارکردگی کا فیصلہ نعروں یا دعوؤں کے بجائے نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے، عوام کو تعلیم، صحت، امن و امان اور بنیادی سہولتوں میں بہتری درکار ہے اور نئے سیٹ اپ کو مختصر مدت میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔