عظمیٰ بخاری نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو حراست میں نہیں لیا، اس معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور متعلقہ معلومات کی تصدیق کے بعد اہل خانہ کو صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات پنجاب کے بیان کے بعد اقرار الحسن کے لاپتا ہونے کا معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دوسری جانب ان کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم افراد لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

فرح اقرار کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آیا، جب 5 سے 7 افراد ان کے گھر پہنچے۔ ان افراد میں خواتین بھی شامل تھیں اور انہوں نے خود کو سائبر کرائم کے اہلکار ظاہر کیا۔ فرح اقرار کا کہنا ہے کہ ان افراد نے اقرار الحسن کو باہر آنے کے لیے کہا، تاہم انکار پر دروازہ توڑنے کی دھمکی دی گئی۔

اقرار الحسن کی اہلیہ کے بیان کے مطابق مذکورہ افراد بعدازاں گھر میں داخل ہوئے اور ایک کمرے سے اقرار الحسن کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ فرح اقرار نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شوہر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

فرح اقرار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ادارے کے دفتر سے رابطہ کیا، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا، شوہر کے بارے میں معلومات نہ ملنے پر انہوں نے پولیس سے بھی رجوع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ صبح تقریباً 6 بجے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں اقرار الحسن کے مبینہ اغوا سے متعلق درخواست جمع کرائی گئی، جس پر پولیس کی جانب سے ڈائری نمبر جاری کیا گیا۔ فرح اقرار کے مطابق بعدازاں آن لائن کمپیوٹرائزڈ مقدمہ درج کرانے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ نیٹ ورک بند ہے۔

اس معاملے میں ایک طرف وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اقرار الحسن کو پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کی تردید کی ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی اہلیہ نے نامعلوم افراد کی جانب سے انہیں گھر سے لے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاحال فراہم کردہ معلومات کے مطابق اقرار الحسن کے بارے میں مصدقہ تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔ معاملے کی تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے معلومات کی تصدیق کے بعد ہی ان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں واضح طور پر بتایا جا سکے گا۔