ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بہتر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی نہ صرف صارفین کو زیادہ مؤثر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ ڈیجیٹل معیشت، کاروبار، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان نے صنفی ڈیجیٹل فرق کم کرنے کے معاملے میں تیز رفتار پیشرفت کی ہے، خواتین سمیت معاشرے کے مختلف طبقات تک ڈیجیٹل سہولتوں کی رسائی بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
شزہ فاطمہ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تین نئی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز بھی لینڈ کی گئی ہیں۔ بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے ایسی کیبلز اہم رابطہ فراہم کرتی ہیں، جبکہ نئے کیبل روٹس پر کام سے ملک کی عالمی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہر 15 روز بعد قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیشرفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد ڈیجیٹل رابطوں سے متعلق منصوبوں کی نگرانی اور ان پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت ملک میں 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان میں فائبر براڈبینڈ کی سہولت تک رسائی رکھنے والے گھروں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع سے انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی فراہمی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنے کی شرح بھی 19 فیصد سے بڑھ چکی ہے، جبکہ حکومت نے اس شرح کو 60 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جدید موبائل نیٹ ورکس کی بہتر کارکردگی اور فائیو جی جیسی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو جدید بنانا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے فائیو جی سروسز کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2026 میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان میں فائیو جی متعارف کرائی گئی، فائیو جی نیٹ ورک کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا اہم ہے، کیونکہ تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد نیٹ ورک درکار ہوتا ہے۔
شزہ فاطمہ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام تک سرکاری سہولتیں پہنچانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے ٹیکنالوجی کی مدد سے ایندھن کی سبسڈی حاصل کی، اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسمارٹ فون رکھنے کی شرط نہیں رکھی گئی، تاکہ ڈیجیٹل ذرائع سے سبسڈی کی فراہمی میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر کے خطاب میں بین الاقوامی انٹرنیٹ رابطوں کی بہتری، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع، موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن اور فائیو جی انفرااسٹرکچر کی ترقی کو نمایاں اہمیت دی گئی۔ ان منصوبوں کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل رابطوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور عوام و کاروباری اداروں کے لیے جدید مواصلاتی سہولتوں کی رسائی بہتر کرنا ہے۔
حکومت کی جانب سے قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیشرفت کے جائزے اور نئی کیبل روٹس پر کام کو ملک کی ڈیجیٹل ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے مکمل ہونے، انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری اور خدمات کے معیار پر ان کے اثرات کا انحصار منصوبوں کی تکمیل اور متعلقہ انفرااسٹرکچر کی مؤثر فعالیت پر ہوگا۔







