حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا بیس کیمپ ہوگا، جہاں سے ملک گیر احتجاج کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق وہ پورے پاکستان میں عوام اور نوجوانوں کے پاس جائیں گے اور انہیں اپنا حق لینے کا پیغام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم کی ہر شکل کو چیلنج کرنا ہوگا، کیونکہ ظلم کو چیلنج کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی کی جدوجہد اقتدار یا پارٹی پاور کی سیاست نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ احتجاج کا اگلا مرحلہ اسلام آباد ہوگا اور اس سے پہلے بھی بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا سیلاب لے کر اسلام آباد آئیں گے اور کوئی راستہ نہیں روک سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کی جائے گی اور حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی، کیونکہ یہ عوام پر جبری بوجھ ہے۔ ان کے مطابق حکومت سے صرف فیس سیونگ کے لیے مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے بلکہ حکومت کو سڑکوں پر آکر عوام کے مطالبات سننا ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم کرے، کیونکہ یہ ذاتی مطالبات نہیں بلکہ عوام کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو مذاکرات پر آنا پڑا اور ان مذاکرات سے قومی خزانے کو 3360 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

ان کے مطابق آئی پی پیز کے معاملے میں بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر آٹھ روپے فی یونٹ کمی ہوئی، تاہم یہ ایک محدود کامیابی ہے اور مزید تقریباً 73 آئی پی پیز سے بات چیت ہونی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گندم، یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں اضافہ زرعی شعبے کے لیے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے جبکہ زرعی ترقی تقریباً دو فیصد تک آچکی ہے اور صوبے میں غربت کی شرح 41 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں اور بنیادی صحت مراکز کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ ختم کی جائے۔ ان کے بقول تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور غریب، متوسط اور امیر طبقے کے لیے الگ الگ معیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ کی صورتحال پر کہا کہ صوبے میں بدحالی کی ذمہ داری پوری پی ڈی ایم پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کراچی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ اندرون سندھ کے عوام بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل نظام کو صرف شاخیں کاٹنے سے نہیں بلکہ اسے جڑ سے تبدیل کرنے میں ہے۔ ان کے مطابق انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام کو خیرباد کہنا ہوگا، بیوروکریسی کا نظام تبدیل اور پولیس کو بااختیار بنانا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی زہر کی طرح پھیل رہی ہے اور جنوبی اضلاع، خیبر، باجوڑ، بونیر اور مردان کے بعض علاقوں میں صورتحال سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا اور چند نمائشی اقدامات سے نظام درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل فوج بھیجنا نہیں اور نظام میں بنیادی تبدیلی کے لیے مشاورت کا عمل وسیع کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق قبائلی مشران کو اعتماد میں لے کر مسائل حل کیے جائیں اور بارڈر ٹریڈ زون کا جامع منصوبہ بنا کر اس پر عمل کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں یوریا کے بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم قیمت یوریا دستیاب نہیں جبکہ کھاد بلیک میں فروخت ہورہی ہے۔ ان کے مطابق یوریا سے بارود بننے کے جواز کی بنیاد پر کسانوں کو کھاد سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا سے یوریا بحران پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ افغانستان سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کرنے کے معاملے پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا اور کہا کہ ہزاروں طلبہ اور ڈاکٹرز کو سڑکوں پر لانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر آواز کیوں نہیں اٹھاتیں، تاہم جماعت اسلامی ہر مسئلے پر بات کرے گی اور ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انہیں علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق ملک میں گورننس بہتر بنانے کے ساتھ عوام کے ٹیکس کا پیسہ درست طریقے سے خرچ کیا جانا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور مقامی حکومتوں کو وفاق اور صوبوں کی طرح براہ راست بجٹ دیا جائے۔ ان کے بقول اس اقدام سے گلی محلوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور گھر بیٹھے حق نہیں ملتا، حق کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق دھرنا جاری رہے گا اور کارکنان اسے برقرار رکھنے کے لیے تیار رہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ دھرنوں میں دن بھر مزدوری کرنے والے افراد کے ساتھ ڈاکٹرز، انجینئرز، تاجر، صنعت کار اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شریک ہیں۔ ان کے مطابق عام آدمی اپنی روزی روٹی کے ساتھ پوری قوم کے لیے احتجاج کررہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو نظرانداز کیا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق حکمران خاندان کو عوام نے مسترد کردیا اور وہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ حکومت جاتے جاتے پٹرول کی قیمت کم کرے، آئی پی پیز مافیا سے مذاکرات کرے اور مہنگائی کم کرے۔ انہوں نے روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے حالات کو نہ سمجھا تو جماعت اسلامی انہیں سمجھانے کے لیے آئے گی۔ ان کے مطابق عوامی غصہ بے قابو ہوا تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ انہوں نے پنجاب میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی پیچھے ہٹنے والی نہیں اور ظلم کے نظام کے خاتمے کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق جس مسئلے کے پیچھے جماعت اسلامی پڑتی ہے، اسے حل کرا کے دم لیتی ہے۔

نادرا سے متعلق مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً چھ لاکھ افراد کے شناختی کارڈ بلاک ہیں اور نادرا عملے کی نااہلی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادرا فوری طور پر شناختی کارڈ بلاک ہونے کا مسئلہ حل کرے۔ ان کے مطابق کراچی میں پختونوں، بہاریوں اور بنگالیوں کے شناختی کارڈ کا مسئلہ بھی جماعت اسلامی نے اٹھایا تھا اور اس کے نتیجے میں تقریباً 90 فیصد مسئلہ حل کرایا گیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی ادارے سے تصادم نہیں چاہتی بلکہ مسائل کا پرامن حل چاہتی ہے۔ انہوں نے نادرا حکام سے مطالبہ کیا کہ نادرا کے دفاتر کے باہر دھرنے کی نوبت آنے سے پہلے متاثرہ افراد کے مسائل حل کیے جائیں۔

انہوں نے چیئرمین نادرا اور ڈی جی نادرا سے ایک ہفتے کے اندر شناختی کارڈز کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افراد جماعت اسلامی کے دفاتر سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے سول سوسائٹی، طلبہ، نوجوانوں اور علما سمیت ہر طبقہ فکر کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو بھی دھرنے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں آنے والے ہر شخص کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اے این پی کے میاں افتخار حسین بھی دھرنے میں شریک ہوئے اور جماعت اسلامی نے ان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے ہر طبقے کی آواز بن کر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی حمایت کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔