تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے بعد معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا رہا تھا اور بعض اہم نکات پر دونوں جانب سے اتفاق رائے بھی سامنے آیا، تاہم حتمی اعلان سے قبل اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے رابطے کے بعد معاملہ ایک بار پھر غیر واضح ہوگیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی قیادت سے ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہوگی، اس کے بعد ہی لانگ مارچ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ یا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ حکومت کو بھی واضح کیا جائے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ کے حوالے سے فیصلہ ممکن نہیں۔

اس سے قبل مذاکرات میں پیش رفت کے بعد ذرائع نے بتایا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے 4 اکتوبر کا مجوزہ لانگ مارچ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مذاکرات میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق اپنا فیصلہ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی پالیسی پر عمل درآمد، عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت اور تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی سیاست پر نظرثانی جیسے نکات شامل تھے۔

مذاکرات میں پیش رفت کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی بھی متحرک ہوگئے اور اسپیکر چیمبر میں قانونی ماہرین اور اعلیٰ سیاسی قیادت سے مسودے پر مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے باہر موجود اعلیٰ سیاسی قیادت نے بھی آن لائن مشاورت میں شرکت کی۔

تاہم حتمی اعلان سے قبل محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی لانگ مارچ سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے متعلق مشاورت کی گئی۔ ارکان کی اکثریت نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی حمایت کی جبکہ مثبت پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے، اسے مؤخر یا منسوخ کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔

پی ٹی آئی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ایک اہم حکومتی شخصیت سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں اپوزیشن کے مطالبات اور ان کے ممکنہ جوابات پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں دونوں رہنما اسپیکر چیمبر میں مذاکرات کے لیے پہنچے۔

بیرسٹر گوہر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ تاہم انہوں نے لانگ مارچ روکنے کے لیے کیے جانے والے بعض اقدامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں طے ہوا تھا کہ اندر ہونے والی گفتگو باہر نہیں آئے گی، تاہم بعض افراد نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ مؤقف میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ قیادت کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی ملنی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ جمہوری طریقے سے معاملات حل ہونا بہتر ہے اور مذاکرات اسی امید کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت مسائل کو الجھانے کے بجائے سلجھانے کا ہے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی مذاکرات سے اچھی امید رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات مذاکرات کی میز پر ہی طے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے بیان پر حکومتی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اس کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی گئی۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہوا تھا، جس میں دونوں جانب سے سیاسی صورتحال، لانگ مارچ اور دیگر معاملات پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے۔ فریقین نے اگلے روز مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

یوں موجودہ صورتحال میں مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے اور معاہدے کے مسودے پر بھی کام ہوا، تاہم محمود خان اچکزئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کو حتمی فیصلے سے مشروط کیے جانے کے بعد لانگ مارچ کے خاتمے اور معاہدے کے حتمی اعلان کا معاملہ فی الحال زیرِ غور ہے۔