لائیو

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان؛ 'کرک، کوہاٹ اور پشاور کے بعد اگلا مرحلہ خیرآباد سے طے ہوگا'

نیوز ڈیسک
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان؛ 'کرک، کوہاٹ اور پشاور کے بعد اگلا مرحلہ خیرآباد سے طے ہوگا'4 اکتوبر، 2026

پشاور: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کردیا، جو آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے شروع ہوگا۔ گزشتہ روز وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سمیت مختلف معاملات پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی، تاہم فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ اور لانگ مارچ کے خاتمے کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔

  • رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان نے کہا دو دن سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ملک کو انتشار سے بچایا جائے، ہم مستقبل مزاجی سے ہر شق پر بات کرتے رہے ہیں، ان کے خدشات سنے ہیں، اپنی لیڈر شپ سے بات کی ہے، چار مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا ہے لیکن دہشتگردی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

  • رہنما ن لیگ طلال چوہدری نے کہا دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے پی کے ٹیم سے مایوس ہوئی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کے پی حکومت کی تعاون کی یقین دہانی کرانے میں ناکامی پر مذاکرات ناکام ہوئے، کے پی حکومت دہشتگردی کی جنگ میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، دہشتگردی کی جنگ پاکستان کے استحکام کی جنگ ہے، اس میں تعاون کریں۔

  • پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع کردی گئی۔ توسیع چیف کمشنر اسلام آباد اور محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر کی گئی۔

گزشتہ تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں!

تازہ اپڈیٹس

  1. سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کردیا، جو آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے شروع ہوگا۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے آنے والے قافلے گنڈی چوک سے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا، جہاں 5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام بھی مارچ کا حصہ بنیں گے۔

    وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 5 اکتوبر کو کرک سے قافلہ ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگا اور رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔

    6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات متنی کے قریب قیام کرے گا۔

    7 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے پشاور کے بڈھ بیر سے قافلہ روانہ ہوگا، جب کہ ضلع خیبر کے عوام بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔ پشاور کے دیگر حلقوں کے قافلے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر مارچ کا حصہ بنیں گے۔

    اعلان کے مطابق 7 اکتوبر کی رات قافلہ چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کرے گا۔ 8 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہوں گے۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا بھر کے قافلے خیرآباد میں جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان خیرآباد میں کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ لانگ مارچ کا شیڈول ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق بنیادی اختلاف خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی اور لانگ مارچ واپس لینے کے معاملے پر برقرار رہا۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پرامن رہے گی، تاہم لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

    رانا ثناء اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات اور علاج معالجے سے متعلق مطالبات نسبتاً چھوٹے معاملات تھے، جب کہ اصل اختلاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار ہو تو دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم جن معاملات کے لیے بات چیت ہوئی تھی ان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

    انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ برقرار ہے، تاہم اس کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جن سے صوبے کے عوام میں نفرت پیدا ہو۔

مزید خبریں