
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کردیا، جو آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے شروع ہوگا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے آنے والے قافلے گنڈی چوک سے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا، جہاں 5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام بھی مارچ کا حصہ بنیں گے۔
وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 5 اکتوبر کو کرک سے قافلہ ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگا اور رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔
6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات متنی کے قریب قیام کرے گا۔
7 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے پشاور کے بڈھ بیر سے قافلہ روانہ ہوگا، جب کہ ضلع خیبر کے عوام بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔ پشاور کے دیگر حلقوں کے قافلے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر مارچ کا حصہ بنیں گے۔
اعلان کے مطابق 7 اکتوبر کی رات قافلہ چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کرے گا۔ 8 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہوں گے۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا بھر کے قافلے خیرآباد میں جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان خیرآباد میں کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ لانگ مارچ کا شیڈول ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق بنیادی اختلاف خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی اور لانگ مارچ واپس لینے کے معاملے پر برقرار رہا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پرامن رہے گی، تاہم لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات اور علاج معالجے سے متعلق مطالبات نسبتاً چھوٹے معاملات تھے، جب کہ اصل اختلاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار ہو تو دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم جن معاملات کے لیے بات چیت ہوئی تھی ان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ برقرار ہے، تاہم اس کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جن سے صوبے کے عوام میں نفرت پیدا ہو۔