
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ جاری ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا رہا، جب کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کے باعث حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں مخلصانہ کوششیں کیں، تاہم حکومت نے کسی ایک تجویز پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، اگر حکومت مذاکرات کے معاملے میں مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات سادہ ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کے اہل خانہ سے ملاقات اور ان کے طبی و قانونی معاملات پر پیش رفت چاہتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رہے گا اور اسے روکا یا ملتوی نہیں کیا جا رہا۔ پی ٹی آئی پرامن ہے اور پرامن احتجاج کرنا اس کا آئینی حق ہے۔ لانگ مارچ کے لیے جو راستہ دیا جائے گا، کارکن اسی راستے سے آگے بڑھیں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کو احتجاج کرنے والوں پر گولی نہیں چلانی چاہیے، تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ بیانیہ اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں مبینہ مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کسی اور کے احکامات پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے ڈپٹی کمشنرز بھی مبینہ طور پر کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات سے ملک کو مزید سیاسی بحران کی طرف دھکیلا جائے گا۔ گورنر راج نافذ کیے بغیر ہی خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا حکومت نہیں چھوڑ رہی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کرے گی۔ اگر کوئی غیر آئینی اقدام کیا گیا تو پی ٹی آئی کے سینیٹرز، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پارلیمانی بائیکاٹ پر مجبور ہوجائیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں پانچ اہم نکات پر بات ہوئی، لیکن حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اب بھی وقت ہے، حکومت آگے بڑھے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور غیر آئینی اقدامات سے ملک مزید بحران کا شکار ہوگا۔