پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کائنات امتیاز نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران پاکستان کی جانب سے 19 ون ڈے انٹرنیشنل اور 21 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ وہ 2017 کے آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ میں بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکی ہیں۔

کائنات امتیاز 2010 اور 2014 کی ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ رہیں، جب کہ انہوں نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

انہوں نے جنوری 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنا آخری ون ڈے انٹرنیشنل، جب کہ اکتوبر 2022 میں تھائی لینڈ کے خلاف آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔ کھیل سے دوری کے بعد کائنات امتیاز کمنٹری کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کائنات امتیاز نے کرکٹ سے اپنا تعلق برقرار رکھتے ہوئے ویمن میچ ریفری کے طور پر نئے کیریئر کا آغاز کردیا ہے اور اس شعبے میں فرائض انجام دے رہی ہیں۔

کائنات امتیاز کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں کرکٹ ایک روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی والدہ سلیمہ امتیاز بھی کرکٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور امپائرنگ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا تم چھولے بیچنے آئے تھے؟ وسیم اکرم کی بابر اعظم کی دوبارہ کپتان بننے پر تنقید

سلیمہ امتیاز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی پاکستان کی پہلی ویمن امپائر ہیں۔ وہ اب تک 9 ویمن ون ڈے انٹرنیشنل اور 69 ویمن ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔

کائنات امتیاز نے بطور کھلاڑی اپنے بین الاقوامی کیریئر کے بعد اب میچ ریفری کی حیثیت سے کرکٹ کے میدان میں اپنی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔