انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی لانگ مارچ کرے گی، جس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اسلام آباد میں لیوی کے معاملے پر اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے، کیونکہ پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کا بوجھ عوام کی برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔ معیشت کا پہیہ جام ہے اور حکومت ناجائز حربوں کے ذریعے عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال رہی ہے۔

اجلاس میں جماعت اسلامی کے ماہرین نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات پیش کیں۔ ماہرین کے مطابق لیوی پر حتمی فیصلے کے لیے قائم مشترکہ تکنیکی کمیٹی کو تاحال حکومتی ہدایات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل وزارت خزانہ کے دفتر میں بھی دونوں فریقین کے ماہرین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ مذاکرات کے مختلف ادوار اور وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور اس ٹیکس کا بتدریج خاتمہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بھی تسلیم کرتی رہی ہے کہ لیوی اور آئی پی پیز کے مسائل پر جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پُرامن عوامی مزاحمت اور احتجاج کو مسائل کے حل کا ذریعہ بنایا جائے تو اس سے سیاسی اور جمہوری روایات مستحکم ہوں گی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی مذاکراتی عمل کے ذریعے اپنا مؤقف واضح کرنے کی ہر ممکن کوشش کرچکی ہے، تاہم اس کا ہدف عارضی نہیں بلکہ پائیدار ریلیف ہے تاکہ قومی معیشت کا پہیہ دوبارہ رواں ہوسکے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کے مرحلہ وار خاتمے پر حکومت اور جماعت اسلامی میں اتفاق، معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے بعد انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال سے رابطہ کرکے حتمی فیصلوں کے لیے کہا۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ وہ بیرون ملک سے آئے سفارتی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں مصروف ہیں اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حکومتی اقدامات سے کل تک آگاہ کریں گے۔

اجلاس میں جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا شریک ہوئے۔ سید فراست شاہ اور انجینئر نصراللہ رندھاوا لیوی سے متعلق مشترکہ تکنیکی کمیٹی کے ارکان ہیں۔