نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں برس 5 نومبر تک اسٹریٹ کرائم کی 46 ہزار 617 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ ان واقعات میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 65 شہری جاں بحق اور 182 زخمی ہوئے، تاہم پولیس ریکارڈ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل ہونے والے شہریوں کی تعداد 51 بتائی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار صرف جرائم کی تعداد نہیں بلکہ شہر میں شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

روزانہ کتنے شہری لٹ رہے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق رواں سال 5 نومبر تک شہریوں سے 16 ہزار 821 موبائل فون چھینے گئے، جب کہ 1,301 گاڑیاں اور 28 ہزار 495 موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی گئیں۔

ان اعداد و شمار کو روزانہ کی اوسط میں دیکھا جائے تو شہریوں سے ہر روز تقریباً 54 موبائل فون چھینے گئے، جب کہ 92 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی گئیں۔ گاڑیوں کی چوری اور چھینا جھپٹی کی روزانہ اوسط چار سے زیادہ رہی۔

رپورٹ کے مطابق 4 ہزار 273 گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں، جب کہ 25 ہزار 523 چوری ہوئیں۔

اسٹریٹ کرائم کا سب سے بڑا مرکز کون سا ضلع؟

شہر میں جرائم کی صورتحال ہر علاقے میں یکساں نہیں۔ سی پی ایل سی کے جون سے اگست 2026 کے ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق ضلع شرقی میں سب سے زیادہ 4 ہزار 426 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔

ضلع وسطی 2 ہزار 477 واقعات کے ساتھ دوسرے، جبکہ کورنگی 2 ہزار 319 وارداتوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

اسی عرصے میں ضلع جنوبی میں 2 ہزار 228، ضلع غربی میں ایک ہزار 426، ملیر میں ایک ہزار 156 اور کیماڑی میں ایک ہزار 22 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ شہر کے مختلف اضلاع میں موجود ہے، تاہم ضلع شرقی اور وسطی سمیت بعض علاقوں میں اس کی شدت زیادہ رہی۔

اسٹریٹ کرائم کیوں بڑھتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اسٹریٹ کرائم کی وجوہات کو صرف غربت یا بے روزگاری تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ جیو نیوز کی ایک تفصیلی تحقیق میں ماہرِ جرمیات فاطمہ خان نے کہا کہ جرائم کے امکانات اس وقت بڑھتے ہیں جب مجرموں کو آسان ہدف ملیں اور چوری شدہ اشیا کو دوبارہ فروخت کرنا آسان ہو۔

اسی تحقیق میں پولیس کے ایک افسر نے بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی، سیاسی مداخلت، عدالتی نظام کی کمزوری اور کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی جرائم کے عوامل قرار دیا۔

دوسری جانب ڈان کی ایک سابقہ تحقیق میں پولیس حکام نے مہنگائی، معاشی مشکلات، کمزور پولیسنگ اور غیر قانونی اسلحے کی دستیابی کو بھی اسٹریٹ کرائم میں اضافے سے جوڑا تھا۔

اس طرح مسئلہ صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کا نہیں بلکہ ان حالات کا بھی ہے جو جرائم کو جنم دیتے اور چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت کو ممکن بناتے ہیں۔

پولیس کی کارروائیاں اور برآمدگیاں

پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ضلع وسطی پولیس کی جنوری سے جون 2026 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق چھ ماہ میں 523 مبینہ اسٹریٹ کرمنلز گرفتار کیے گئے، جب کہ 38 مشتبہ افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے 251 مقابلے کیے، 159 جرائم پیشہ گروہ توڑے اور 294 عادی مجرموں کو بھی گرفتار کیا۔ اسی عرصے میں 11 گاڑیاں، 334 موٹر سائیکلیں اور 570 موبائل فون برآمد کیے گئے، جب کہ 20 کروڑ روپے نقد رقم بھی اصل مالکان کو واپس کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

نومبر کے آغاز میں ضلع وسطی پولیس نے مزید 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے 435 موبائل فون برآمد کرنے کا اعلان کیا۔ پولیس کے مطابق ان فونز کی مالیت 2 سے 3 کروڑ روپے تھی۔

اسی طرح شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے اکتوبر میں تین مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرکے 310 موبائل فون برآمد کیے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان فون چھیننے کے بعد ان کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کرکے انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بناتے تھے۔

تاہم یہ کارروائیاں مختلف اضلاع اور مختلف اوقات کی ہیں۔ شہر بھر میں رواں برس اب تک کتنے ملزمان گرفتار ہوئے اور کتنی اشیا اصل مالکان کو واپس کی گئیں، اس کا ایک جامع اور یکجا عدد دستیاب نہیں۔

چوری شدہ موبائل فونز کی منڈی

موبائل فون چھیننے کے بعد اسے فروخت کرنا بھی جرائم کے اس سلسلے کا اہم حصہ ہے۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق موبائل فون ڈیلرز نے گزشتہ دس برس کے دوران 3 ہزار 386 چوری شدہ، چھینے گئے یا گم شدہ فونز سی پی ایل سی کے حوالے کیے، جن کی مالیت 28 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد تھی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق حال ہی میں مزید 231 فونز بھی حکام کے حوالے کیے گئے، جن کی مالیت تقریباً 50 لاکھ روپے بتائی گئی۔

یہ طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چوری شدہ فونز کی دوبارہ فروخت روکنے کے لیے صرف سڑکوں پر ملزمان کی گرفتاری کافی نہیں، بلکہ موبائل فونز کی خرید و فروخت کی مارکیٹ میں مؤثر جانچ پڑتال بھی ضروری ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

کراچی میں 46 ہزار سے زائد وارداتیں، درجنوں شہریوں کی ہلاکتیں اور ہزاروں موبائل فونز اور موٹر سائیکلوں کی چوری ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

پولیس کارروائیاں اور گرفتاریاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے شہریوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے؟ کیا چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت کا راستہ بند کیا جا رہا ہے؟ اور کیا شہریوں کو یہ اعتماد حاصل ہے کہ واردات کی اطلاع دینے کے بعد ان کی شکایت پر مؤثر کارروائی ہوگی؟

جب تک جرائم کے اس پورے نظام، اسلحے کی دستیابی، چوری شدہ سامان کی مارکیٹ اور پولیسنگ کی کمزوریوں پر بیک وقت توجہ نہیں دی جاتی، کراچی کے شہریوں کے لیے سڑکوں پر تحفظ کا احساس بحال کرنا مشکل رہے گا۔