کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے بتدریج نظام بنانے کی بات کر رہی ہے، تاہم جماعت اسلامی طویل مدتی وعدوں کے بجائے فوری ریلیف چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات میں بھی یہی بنیادی مطالبہ زیرِ بحث ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم یا کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی بار بار مذاکرات اور پریزنٹیشنز دینے کے بجائے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت ایسا نہیں چاہتی، لیکن حکومت کو اس معاملے پر سنجیدہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کا آغاز فوری طور پر کیا جائے۔ ان کے مطابق اس وقت عوام 80 روپے فی لیٹر لیوی ادا کر رہے ہیں، جس کا بوجھ موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں اور کسانوں سمیت مختلف طبقات پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گزشتہ سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1600 ارب روپے وصول کیے، جبکہ ہر ماہ عوام سے تقریباً 150 ارب روپے جمع کیے جا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں عوام کو صرف 26 سے 30 ارب روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ریلیف کا دائرہ 800 سی سی کے بجائے 1300 سی سی تک بڑھایا جائے، کیونکہ ان کے بقول یہ گاڑیاں بھی متوسط طبقے کے زیرِ استعمال ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے ٹریکٹرز کو ریلیف میں شامل کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں تک فائدہ پہنچانے کے لیے مؤثر طریقہ کار بنانے پر بھی زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے تجویز دی کہ اگر حکومت کو خدشہ ہے کہ لیوی میں کمی سے بڑی گاڑیوں کے مالکان بھی فائدہ اٹھائیں گے تو 1800 سی سی سے زیادہ کی لگژری گاڑیوں پر لیوی دگنی کر دی جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عام شہریوں اور متوسط طبقے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے اور احتجاجی لانگ مارچ سے بچنے میں سنجیدہ ہے تو اسے ان مطالبات پر عمل کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر ان کے بقول حکومت ایک فیصد اشرافیہ کو تحفظ دے رہی ہے، جبکہ باقی 99 فیصد عوام کو محدود ریلیف دیا جا رہا ہے۔

معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر کے عملے اور متعلقہ اداروں میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے اور سرکاری گاڑیوں، مفت پیٹرول اور مفت بجلی جیسی سہولیات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

آئی پی پیز کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت خود ان معاہدوں سے قومی خزانے کو ہزاروں ارب روپے کا فائدہ ہونے کی بات کرتی ہے، لہٰذا اس کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے تھرمل اور تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کو بند کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ درآمدی بل اور ملکی خسارہ کم کیا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کی شرحِ سود سے متعلق پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر مغربی ممالک کے معاشی اصول براہِ راست لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق شرحِ سود میں اضافے سے مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی کے بجائے بیوروکریسی اور بینکوں کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینکنگ، چینی، آٹا اور لینڈ مافیا ملک کے معاشی نظام پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔