امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ’ریوارڈز فار جسٹس‘ کے تحت ایران کی جوہری تنصیبات، آلات اور اس پروگرام سے وابستہ افراد، بشمول سائنسدانوں، کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو یہ انعام دیا جا سکتا ہے۔

یہ پروگرام 1984 میں امریکی محکمہ خارجہ کے تحت شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی شہریوں اور مفادات کے تحفظ میں مددگار معلومات فراہم کرنے والوں کو مالی انعام دینا ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی اقدامات سے متعلق ذمہ داریوں میں تعاون نہ کرنے کے باعث ایجنسی کے پاس ایران کی جوہری پیداوار اور سینٹری فیوجز جیسے اہم آلات کے پرزوں سے متعلق معلومات کا تسلسل متاثر ہوا ہے۔

تاہم امریکی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس نوعیت کی معلومات فراہم کرنے پر مکمل 2 کروڑ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طریقے سے تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کی شب فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو آج اسرائیل کا وجود نہ ہوتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرچکا ہوتا اور مشرق وسطیٰ تباہی سے دوچار ہو جاتا۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے بقول امریکا اس وقت تہران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے اور ایران ہر صورت معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ادھر جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ثالثوں کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا تھا کہ ان کی حکومت اب بھی مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو ابھی ایران میں ایک یا دو اہداف سے نمٹنا باقی ہے، جن میں وسطی ایران میں واقع ’پِک ایکس ماؤنٹین‘ بھی شامل ہے۔ اس مقام کو مشتبہ جوہری تنصیب قرار دیا جاتا ہے، تاہم تہران ایسے دعووں کی تردید کرتا ہے۔