لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مرزا وقاص رؤف نے پی ٹی آئی رہنما میاں عثمان اکرم کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پارٹی کو 5 اگست کو مینارِ پاکستان میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی مینارِ پاکستان میں جلسے کی درخواست مسترد کر چکی ہے، جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر مینارِ پاکستان میں جلسے کی اجازت ممکن نہیں تو انتظامیہ کو متبادل مقام فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔
اس پر عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ڈپٹی کمشنر لاہور سے رابطہ کرکے عدالت کو آگاہ کریں کہ آیا مینارِ پاکستان کے علاوہ کسی اور مقام پر جلسے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران واضح کیا گیا کہ جلسے کی اجازت یا انکار سے متعلق فیصلہ ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ عدالت قانونی تقاضوں کے مطابق ہی معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے۔
بعد ازاں جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر اس درخواست پر فیصلہ کر چکے ہیں، اس لیے عدالت کے سامنے درخواست قابلِ سماعت نہیں رہی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر پی ٹی آئی کی درخواست کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 5 اگست کو مینارِ پاکستان پر جلسے کے انعقاد کی اجازت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد عدالت نے بھی مزید مداخلت سے گریز کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔






