غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق مارک کارنی نے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا کوئی تیسرا بلاک بنانے کی تجویز نہیں دے رہے جو بڑی طاقت کا حریف بنے، ’صرف بہتر آداب کے ساتھ‘۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا مقصد طاقت کے ذریعے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسی مضبوطی پیدا کرنا ہے جس سے کوئی دوسرا ملک اس کی کھلی منڈیوں، خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو متاثر نہ کر سکے۔
کینیڈا یورپی یونین کا رکن بننا چاہتا ہے؟
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔
یہ درجہ بندی اس وقت یورپی یونین میں باضابطہ طور پر موجود نہیں، تاہم فان ڈیر لائن نے کینیڈا کے ساتھ دفاع، توانائی، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا یورپی یونین کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی اس کا ایسا ارادہ ہے۔ کینیڈا اور یورپ کے درمیان کسی نئی شراکت داری کی حتمی شکل پر کینیڈین پارلیمان میں بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد کینیڈا کو زیادہ مضبوط، خودمختار، آزاد، خوشحال اور پائیدار بنانا ہے۔
ٹرمپ کی بھاری ٹیرف کی دھمکی
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتی قربت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں یہ اقدام ’دشمنانہ‘ محسوس ہوا تو امریکا یورپی یونین پر بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ اقدام اچھی نیت سے کیا گیا تو انہیں اعتراض نہیں، تاہم اگر مقصد امریکا کے خلاف ہے تو یورپ کو ’بہت بھاری ٹیرف‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کینیڈا اس وقت امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ امریکا اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسی صورتحال کے باعث اوٹاوا یورپی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کن شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجویز؟
کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور یورپی یونین اہم معدنیات، توانائی، دفاعی پیداوار، ڈیجیٹل تجارت، ادائیگیوں اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کینیڈا کی جانب سے یورپ کو مائع قدرتی گیس اور ہائیڈروجن فراہم کرنے کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا جب کہ مصنوعی ذہانت کے تحفظ سے متعلق مشترکہ ضوابط تیار کرنے کی تجویز دی۔
کارنی نے یورپی یونین کے تعلیمی اور تحقیقی پروگرامز ’ایراسمس پلس‘ اور ’ہورائزن‘ میں کینیڈا کی شمولیت کی خواہش بھی ظاہر کی اور نوجوانوں کے لیے بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب تعلیم، کام اور سفر کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔
یورپ میں بھی مکمل اتفاق نہیں
اگرچہ کئی یورپی رہنماؤں نے کینیڈا کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت کی ہے، تاہم ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ کی اصطلاح پر یورپ کے اندر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
جرمنی نے کینیڈا کے ساتھ خصوصی شراکت داری کے لیے نئے ماڈلز پر بات چیت کا خیرمقدم کیا، تاہم برلن نے ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ کی اصطلاح پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
یورپی پالیسی ماہرین کے مطابق یورپی یونین میں اس نوعیت کی رکنیت پہلے سے موجود نہیں، اس لیے اس کے عملی خدوخال اور ذمہ داریوں کو طے کرنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی بڑے پیمانے پر تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق گزشتہ سال دونوں کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت تقریباً 130.8 ارب یورو تک پہنچ گئی، جو ایک دہائی کے دوران 80 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔







