حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کا عملہ ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کرتا، یہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے بھتہ ٹیکس لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں سود 3 فیصد کر دو، یہ کہتے ہیں اسٹیٹ بینک خودمختار ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک میں تقرریاں تو حکومت ہی کرتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے نام نہاد ریلیف کا اعلان کیا، یہ عوام کو خیرات ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اب پوری قوم کی آواز بن چکی ہے، پٹرولیم لیوی ہر صورت ختم کرنی پڑے گی، لیکن یہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں یہ کہتے ہیں ہمیں تجاویز دیں، جو ہمارا کام نہیں ہے، تاہم ہم نے مذاکرات میں تجاویز بھی دیں لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات ایک ٹریلین سے بڑھ چکے ہیں، حکومت اپنے اخراجات میں 30 فیصد اضافہ کرتی ہے اور عوام سے قربانی مانگتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 107 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ لیوی کے علاوہ کئی طرح کے ٹیکسز بھی پٹرول پر عائد ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کل سے لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں، حکومت نے پھر رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کئی میٹنگز کر چکے ہیں، حکومت ہر مرتبہ وقت مانگتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت لیوی ختم کرتی ہے تو ان سے بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر لیوی ختم نہیں کرتے تو ہم لانگ مارچ کسی صورت ختم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پروپوزل کے ساتھ آئے گی تو بات کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کو خیراتی ریلیف نہیں بلکہ ان کا حق چاہیے، حکمرانوں کا فرض ہے کہ عوام کو ریلیف دیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت آٹے اور چینی کا شدید بحران ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرداری، شریف اور ترین خاندان کی شوگر ملیں ہیں، جبکہ شوگر مافیا کبھی درآمد اور کبھی برآمد کی اجازت مانگتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں 1800 ارب روپے دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ری گیسفکیشن پلانٹس کو گیس نہ آنے کے بھی پیسے دیے جاتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں دیگر ممالک کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا سنجیدہ اور عوامی مسئلہ ہے، اسی پر سراپا احتجاج ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارے دھرنوں کا 35واں دن ہے اور ملک بھر میں 25 سے زائد دھرنے جاری ہیں۔







