غیرملکی نشریاتی ادارے عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور پاکستانی عوام سعودی عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان جذباتی، تاریخی اور ناقابلِ ٹوٹ رشتے پر قائم ہیں۔ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں مملکت کے دفاع کے لیے تیار ہے، جب کہ پاکستان کا عزم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت حرمین شریفین کے تحفظ تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی حکومتوں سے بھی مشاورت کر رہا ہے تاکہ موجودہ وسیع تر بحران کا مذاکرات اور پرامن طریقے سے حل تلاش کیا جاسکے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ مفاہمتی یادداشت پاکستان کی مسلسل اور مخلص سفارت کاری کے بعد طے پائی۔
عرب نیوز کے مطابق مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اجتماعی دفاعی تعاون کے فریم ورک سے متعلق ہے، تاہم اس کے مکمل عملی طریقہ کار کی تمام تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے اور کیے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں تقریباً 80 فیصد حملہ آور افغان شہری ہیں۔ افغانستان سے پاکستان آنے والی دہشتگرد تنظیموں میں افغان شہری بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور الزامات ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق انٹرویو میں پیش نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں احتجاج، کوئی بھی جان جائے گی تو ذمہ دار ’آرگنائزرز‘ ہوں گے، محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ اگر افغان طالبان اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم دہشتگرد گروہوں سے مذاکرات ریاستی پالیسی کا حصہ نہیں ہیں۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور وہ اپنے نظریے کو بندوق کے زور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی سرپرستی انڈیا کر رہا ہے جب کہ بعض سوشل میڈیا سرگرمیاں بیرون ملک سے چلائی جا رہی ہیں۔ انڈیا ماضی میں پاکستان کی جانب سے ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کے حوالے سے ریاست کی پالیسی واضح ہے اور دہشتگرد گروہوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔







