ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے ایرانی صدر کو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے خصوصی پیغام پہنچایا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے ایرانی صدر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر داخلہ نے ایرانی قیادت کو معاہدے کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف پر اعتماد میں لیا۔
ملاقات کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امن و سلامتی کی صورتحال اور مختلف ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستانی قیادت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے محسن نقوی سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں ظاہر کی جانے والی دلچسپی اور خیرسگالی قابل قدر ہے۔
صدر پزشکیان کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور علاقائی روابط موجود ہیں جنہیں مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاسکتا ہے
محسن نقوی کا دورہ ایران ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات خصوصی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس صورتحال میں سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی خلیجی ممالک، ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔
پاکستانی قیادت کی کوشش ہے کہ علاقائی معاملات میں تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رہیں اور کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کے لیے راستے تلاش کیے جائیں
ملاقات میں دوطرفہ تعاون کو مختلف شعبوں میں وسعت دینے کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ خاص طور پر تجارت، معیشت، سیکیورٹی، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کو اہم قرار دیا گیا
پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تعاون اور علاقائی امن بھی دونوں ممالک کے لیے اہم معاملات ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ سطح کے حالیہ رابطوں کو دوطرفہ تعلقات میں مزید پیش رفت کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے
پاکستان نے بارہا خطے میں امن، خودمختاری اور باہمی تعاون کے اصولوں کی حمایت کی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطوں کو بھی اسی پالیسی کے تحت اہمیت دی جارہی ہے
محسن نقوی اور صدر پزشکیان کی ملاقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دونوں ممالک موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود سیاسی و سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے اور باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔







