سرکاری ذرائع کے مطابق میر ضیاء اللہ لانگو قلات میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر مستونگ کے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد بعض زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے ایک نجی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور سڑک کے دونوں اطراف موجود باغات میں چھپے ہوئے تھے اور قافلے کے علاقے میں پہنچتے ہی شدید فائرنگ شروع کردی۔

ان کے مطابق حملہ آور دونوں جانب سے گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے، جس پر سکواڈ کے اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ آوروں اور ان کے سکواڈ کے درمیان تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر موجود تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر 5 گولیاں لگیں۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے، تاہم سکواڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، حکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

دریں اثنا محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ قافلے کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کردیا۔

ان کے مطابق حملے کا مقصد علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز ایسے عناصر کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔