نجی نشریاتی ادارے 'ایکسپریس نیوز' کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے نومنتخب اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، قائد ایوان کے انتخاب اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر سمیت دیگر اہم پارلیمانی عہدوں کے امیدواروں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نئے قائد ایوان کے لیے فیورٹ امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی انتخابی کامیابی کے بعد پارٹی قیادت ان کے ناموں پر غور کر رہی ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے قائد ایوان کے انتخاب کا حتمی اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے۔

نواز شریف آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر کے نئے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے، جس کے بعد حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

اجلاس میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت اور پارلیمانی پوزیشن کا بھی جائزہ لیا گیا، جب کہ آزاد ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے حکومت سازی کے بعد گڈ گورننس، تعمیر و ترقی، روزگار، بنیادی سہولیات اور عوامی مسائل کے حل کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے ناموں پر بھی مشاورت کی گئی، جن میں خواتین، ٹیکنوکریٹس، اوورسیز پاکستانیوں اور علما کی نشستیں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: جب میں وزیراعظم تھا تو ڈالر 100 روپے کا تھا، اس کے بعد ڈالر کہاں سے کہاں چلا گیا: نواز شریف

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اجلاس میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے تاکہ وہ دور دراز علاقوں کا دورہ کرکے عوام کے مسائل حل کرسکیں۔

نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی آزاد کشمیر کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔