ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کا تعلق صرف وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام سے بھی ہے، بڑے صوبوں میں فیصلہ سازی کا عمل نچلی سطح تک منتقل نہ ہونے کے باعث شہری بنیادی سہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کراچی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو ماضی میں ایک سال کے دوران تقریباً 300 ارب روپے سے ترقی دی گئی تو اس دور کے ترقیاتی کام آج بھی شہریوں کو یاد ہیں، تاہم موجودہ دور میں شہر پر ہزاروں ارب روپے خرچ کیے جانے کے باوجود بنیادی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوسکے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف فنڈز کا نہیں بلکہ نظام اور اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ اگر وسائل موجود ہوں لیکن ان کے استعمال اور فیصلوں کے اختیارات مقامی سطح پر موجود نہ ہوں تو شہریوں کے مسائل کا بروقت حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے لیے 263 ارب روپے، پنجاب کے لیے ہزاروں ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے تقریباً 1500 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے تقریباً 900 ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام کو بنیادی سہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر وسائل دستیاب ہیں تو پھر کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی، سیوریج، صفائی، سڑکوں، صحت، تعلیم اور امن و امان کے مسائل کیوں برقرار ہیں، اس کا بنیادی سبب وسائل کی کمی سے زیادہ انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا فقدان ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کے شہری طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پانی، سیوریج، صفائی، سڑکوں، پولیس، اسپتالوں اور اسکولوں سمیت بنیادی شہری سہولتوں سے متعلق اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم اور مختلف انتظامی اقدامات کے ذریعے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور صوبائی فنانس کمیشن کے نظام کو مضبوط بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے، تاہم عملی طور پر یہ مطالبات مطلوبہ انداز میں آگے نہیں بڑھ سکے

وفاقی وزیر صحت کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر شہری علاقوں میں مؤثر اور جواب دہ طرز حکمرانی قائم کرنا مشکل ہے، مقامی حکومتیں اگر وسائل اور اختیارات کے ساتھ کام کریں تو شہری مسائل کے حل میں زیادہ تیزی اور شفافیت لائی جاسکتی ہے

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ اب صرف کراچی، سندھ یا کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پورے ملک میں بہتر حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کا معاملہ بن چکا ہے۔

انہوں نے موجودہ صوبوں کے حجم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے اعتبار سے بہت بڑے انتظامی یونٹس ہیں، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کئی ممالک کے مقابلے میں بہت وسیع آبادی یا رقبہ رکھتے ہیں، جس کے باعث مرکز سے دور علاقوں تک مؤثر انتظامی رسائی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اب یہ احساس مضبوط ہورہا ہے کہ صرف اچھے حکمران یا بہترین افسران مقرر کردینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکمرانی کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیارات ایک محدود انتظامی سطح پر مرتکز رہیں گے تو وسائل کے باوجود عوامی مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس لیے فیصلہ سازی، مالی وسائل اور انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ ملک کے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز اور ریاستی اداروں کی سطح پر بھی اس بات کا احساس بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے مقامی سطح پر حکمرانی بہتر بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، انتظامی رسائی بڑھانے اور شہریوں کے مسائل کو ان کی دہلیز کے قریب حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لیے صرف بڑے ترقیاتی بجٹ کافی نہیں بلکہ اس رقم کو درست جگہ، درست وقت اور عوامی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی نظام پر سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کس طرح اختیارات اور وسائل کی تقسیم کو مؤثر بنایا جائے اور عام شہری کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی مسائل کا پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب حکمرانی کے نظام میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو اختیارات کو عوام کے قریب لے جائیں اور مقامی سطح پر اداروں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنائیں۔