نجی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ملکی صورتحال، نئے انتظامی یونٹس اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کی بات کی ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی تائید کی تھی، اگر پیپلز پارٹی کو اعتراض ہے تو وہ ان کے خلاف بیان دے۔
انہوں نے کہا کہ تین سال قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کراچی آئے تھے تو انہوں نے بھی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کو لازم و ملزوم قرار دیا تھا، اب یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ملک کو موجودہ نظام کے تحت نہیں چلایا جاسکتا۔
وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ ملک میں موجود 32 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنایا جاسکتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی صوبے کی سرحدیں تبدیل یا کسی صوبے کو دوسرے صوبے میں ضم کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بغیر کسی دلیل کے ایم کیو ایم کی بلدیاتی آئینی ترمیم کی مخالفت کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ جو بھی کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے یا نئے انتظامی یونٹس کی بات کرے گا، ہم اس کا ساتھ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 سال میں سندھ کے لیے مختص 2263 ارب روپے اضلاع تک پہنچنے کے بجائے صوبائی حکمرانوں نے ہڑپ کرلیے، جس کے باعث کشمور سے کراچی تک تباہی پھیلی ہوئی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ترقیاتی کام نہ ہونے اور کرپشن کے باعث محرومی بڑھتی ہے تو لوگ صوبائی یا وفاقی حکومت کے بجائے ریاست سے ناراض ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب لوگ ہتھیار اٹھاتے ہیں تو یہی سیاسی جماعتیں فوج کو بلاتی ہیں، جس سے ملک میں غدار پیدا ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے شہری سندھ کے عوام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تو ہم ان کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ان کا ساتھ کیوں دیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پارٹی میں اندرونی اختلافات ہوسکتے ہیں، تاہم سندھ حکومت کی کارکردگی اور بلدیاتی نظام کے معاملے پر ہم سب کا مؤقف ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کا فارمولہ ایک ہی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور بلدیاتی نظام کو بااختیار بنایا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ یا تو ملک کو بچایا جائے یا کسی جماعت کی ناراضگی دیکھی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی اور شہری سندھ کے عوام کو ہر حال میں مرنا ہی ہے تو یہ بات آئین میں لکھوا دی جائے تاکہ ہمیں صبر آجائے، اب فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے اور ملک کو بچانا ہوگا۔







