نوبیل کمیٹی کے مطابق کارل ڈیسروتھ کا تعلق امریکا جبکہ پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل کا تعلق جرمنی سے ہے۔ تینوں سائنسدانوں کی تحقیق نے نیورو سائنس کے شعبے میں دماغ کے پیچیدہ نظام اور اعصابی خلیات کے درمیان رابطوں کو سمجھنے کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔

نوبیل کمیٹی نے بتایا کہ ان سائنسدانوں کی تحقیق کا بنیادی مرکز لائٹ گیٹڈ آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس ہے۔ آپٹو جینیٹکس ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے مخصوص اعصابی خلیات کی سرگرمی کو روشنی کی مدد سے انتہائی درست انداز میں فعال یا غیر فعال کیا جاسکتا ہے۔ اس پیش رفت نے سائنسدانوں کو زندہ دماغ میں مخصوص نیورونز کے کردار کا براہِ راست مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل نے روشنی کے لیے حساس پروٹین چینل روڈوپسِن سے متعلق اہم دریافتیں کیں۔ بعد ازاں کارل ڈیسروتھ نے اس علمی بنیاد کو استعمال کرتے ہوئے ایسے طریقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جس کے ذریعے اعصابی خلیات کی سرگرمی کو روشنی کے ذریعے کنٹرول کرنا ممکن ہوا۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق آپٹو جینیٹکس نے دماغی تحقیق کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے محققین مخصوص اعصابی خلیات کو منتخب کرکے ان کی سرگرمی کو کنٹرول کرسکتے ہیں، جس سے دماغ کے مختلف حصوں کے افعال اور ان کے باہمی رابطوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

سائنسدانوں کی اس تحقیق سے یادداشت، احساسات اور رویوں سے متعلق دماغی سرگرمیوں کا مطالعہ مزید بہتر انداز میں ممکن ہوا ہے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق یہ طریقہ دنیا بھر کی لیبارٹریوں میں دماغ کے پیچیدہ نظام اور اعصابی نیٹ ورکس کے مطالعے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

2026 کے نوبیل انعام کی رقم تینوں سائنسدانوں میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ رواں سال اس انعام کی مجموعی رقم 1 کروڑ 20 لاکھ سویڈش کرونا مقرر کی گئی ہے۔

نوبیل انعام برائے فزیالوجی یا میڈیسن کے اعلان کے ساتھ ہی رواں سال کے نوبیل انعامات کے سلسلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کے بعد فزکس، کیمسٹری، ادب، امن اور معاشی علوم کے انعامات کا اعلان مقررہ شیڈول کے مطابق کیا جائے گا۔

نوبیل انعام دنیا کے معتبر ترین سائنسی اور علمی اعزازات میں شمار ہوتا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد یا اداروں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا ہے جن کی تحقیق یا خدمات نے انسانیت کے لیے نمایاں اثرات مرتب کیے ہوں۔

قابل ذکر ہے کہ 2024 میں فزیالوجی یا میڈیسن کا نوبیل انعام وکٹر ایمبروز اور گیری رووکُن کو مائیکرو آر این اے اور جین ریگولیشن میں اس کے کردار سے متعلق دریافتوں پر دیا گیا تھا۔ اس لیے 2026 کے انعام کی تحقیق دماغی اعصابی سرگرمی اور آپٹو جینیٹکس کے شعبے میں ایک الگ اور اہم سائنسی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔