بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی ملک کو نسبتاً کم قیمت توانائی فراہم کرنے میں مدد دے رہی ہے اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے عملی طور پر کامیاب ثابت ہوئے ہیں، ایک وقت میں اسلام آباد میں یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ تھر کا کوئلہ قابلِ استعمال نہیں اور اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا، تاہم مقامی وسائل میں سرمایہ کاری نے اس تصور کو تبدیل کردیا۔
انہوں نے کہا کہ تھر میں توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں نے علاقے کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے اور مقامی افراد کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت بڑھی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق تھر کے مختلف منصوبوں میں 94 فیصد روزگار مقامی افراد کو فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ان منصوبوں سے 60 فیصد نوجوان مستفید ہو رہے ہیں، تھر جیسے پسماندہ علاقے کے بچوں کا سی ایس ایس امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا اور چین میں ہونے والے امتحانات میں بھی نمایاں کارکردگی دکھانا اس بات کی علامت ہے کہ مواقع فراہم کیے جائیں تو یہاں کے نوجوان قومی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرسکتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھر میں ترقی کے عمل کو سیاسی اختلافات اور تقسیم کی سیاست سے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا، تھر ترقی کرتا رہے گا اور یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے مزید مواقع فراہم کیے جاتے رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ تھر کے کوئلے سے گیس پیدا کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ کوئلے سے فرٹیلائزر تیار کرنے کے منصوبے کو بھی تیزی سے مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر فرٹیلائزر کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کے باعث مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار بڑھانا اہم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ تھر کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں اور انہیں مواقع فراہم کرکے ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے، تھر کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں مقامی وسائل، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کو یکجا کرکے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر بڑے منصوبے مکمل کرسکتے ہیں، سندھ میں کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی کام جاری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے کورنیش منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا، حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان تعاون بڑھنے سے نہ صرف بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوں گے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہونے والی معاشی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے اثرات صرف صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کا مثبت اثر ملکی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے 1973 کے آئین اور پارلیمانی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام نے اپنی اہمیت ثابت کی ہے اور پیپلز پارٹی ہر لحاظ سے پارلیمانی نظام کی حمایت کرتی ہے، سندھ میں ترقی اور حکمرانی کے شعبے میں حاصل ہونے والے تجربات کو قومی سطح پر بھی مثال کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو بھی ملک کو گھر کی طرح چلانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر وفاقی سطح پر بعض شعبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے تو سندھ حکومت کے تجربات اور صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اسلام آباد کے اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جانی چاہیے اور عوام کو علاج معالجے کی بہتر اور مفت سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرے، حکومت اور نجی شعبہ مل کر بڑے ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دے سکتے ہیں اور اس تعاون کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھر میں توانائی اور روزگار کے شعبوں میں سامنے آنے والے نتائج کو دیگر پسماندہ علاقوں تک وسعت دی جائے تو ملک میں معاشی سرگرمیوں، روزگار اور انسانی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔







