ملاقات میں وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز اور رکن قومی اسمبلی عون چوہدری، گل اصغر خان اور منزہ حسن شریک ہوئے۔ ملاقات کے دوران ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کے سیاسی معاملات کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔

آئی پی پی کے ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے پنجاب میں جاری منصوبوں کے لیے ان کی کاوشوں کی تعریف کی، صوبے میں عوامی سہولت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ملاقات میں ملکی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل اور ملکی مفاد کے لیے سیاسی تعاون اور رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔

استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں نے کھارے پانی والے اضلاع میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے منصوبوں کو بھی سراہا، صاف پانی کی فراہمی عوامی صحت اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم اقدام ہے۔

اس موقع پر آئی پی پی کے ارکان قومی اسمبلی نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مبارکباد بھی پیش کی۔

ارکان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے اثرات صوبے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور مریم نواز کی جانب سے شروع کیے گئے عوامی منصوبوں کا چرچا آزاد کشمیر تک پہنچا ہے۔

عون چوہدری، منزہ حسن اور گل اصغر خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت اور سیاسی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں سیاسی قوتوں کو مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

ملاقات کے دوران پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح کے اقدامات اور صوبے میں جاری حکومتی پالیسیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی پی پی رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت پنجاب کی کوششوں کو مثبت قرار دیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی پی پی ارکان کی جانب سے نیک خواہشات اور تعاون کے اظہار کا خیرمقدم کیا، عوام کی خدمت، صوبے کی ترقی اور فلاحی منصوبوں کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

مریم نواز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور پنجاب میں ترقی کے سفر کو مزید تیز کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے

ملاقات میں سیاسی رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا، جبکہ ملکی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔