این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کو کراچی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی شاہراہِ فیصل کے قریب پی ای سی ایچ ایس میں واقع کال سینٹر پر کی گئی، جہاں سے 3 ہزار 390 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار سی پی یوز بھی قبضے میں لیے گئے۔

شہزاد اکبر کے مطابق ضبط کیے گئے لیپ ٹاپس اور سی پی یوز کے فرانزک معائنے سے انکشاف ہوا کہ بیرونِ ملک موجود افراد بھی مبینہ فراڈ نیٹ ورک کا حصہ تھے، جب کہ بعض تاجر بھی اس سرگرمی میں ملوث پائے گئے۔ مختلف ناموں سے رجسٹرڈ متعدد یوزر آئی ڈیز ایک ہی لیپ ٹاپ پر لاگ اِن تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی کال سینٹرز شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے اسے مختلف فراڈ اسکیموں میں استعمال کرتے تھے۔ کراچی میں تقریباً 350 کال سینٹرز اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جب کہ حالیہ کارروائی کا نشانہ بننے والا ادارہ شہر کے تین بڑے مبینہ فراڈ کال سینٹرز میں شامل تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کال سینٹر کے ملازمین مبینہ طور پر امریکی شہریوں، بالخصوص ریٹائرڈ افراد کو کریڈٹ کارڈ اسکیموں اور کم شرحِ سود پر قرضوں کی پیشکش کرتے تھے۔ اس دوران ان سے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز کی حساس معلومات حاصل کرکے مالی فراڈ کیا جاتا تھا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملازمین کو روزانہ 15 سے 20 افراد کو ہدف بنانے کا کہا جاتا تھا، جب کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی میں حوالہ، ہنڈی اور دیگر مالی ذرائع کے استعمال کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن نے گرفتار 9 مرکزی ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے 273 افراد کو کال سینٹر کی عمارت میں رکھا گیا ہے، جسے محکمہ داخلہ سندھ نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سب جیل قرار دیا ہے۔ تفتیشی افسر نے 9 مرکزی ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے باقی گرفتار افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی درخواست کی۔

دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر بچے اور 80 سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں شامل دفعات قابلِ ضمانت ہیں، لہٰذا خواتین اور نابالغ ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

عدالت نے خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا، جبکہ دیگر ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

کارروائی کے بعد گرفتار افراد کے اہلِ خانہ نے کال سینٹر کے باہر احتجاج کیا۔ بعض رشتہ داروں نے الزام عائد کیا کہ انہیں ایف آئی آر کی نقل فراہم نہیں کی گئی اور گرفتار افراد سے رابطے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔

مزید پڑھیں: ایک جیسا نام جرم بن گیا، کراچی پولیس نے شہری پر 29 مقدمات ڈال دیے

ایک خاتون کے مطابق 3 نومبر سے ان کا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ حراست کے دوران اسے کھانا اور پانی فراہم کیا جارہا ہے یا نہیں۔

گرفتار افراد کے بعض رشتہ داروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کال سینٹر میں طویل عرصے سے مبینہ غیر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں اور کم عمر بچے بھی کام کررہے تھے تو متعلقہ اداروں نے پہلے کارروائی کیوں نہیں کی۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق اس کارروائی میں پہلی مرتبہ کمپنی کے مالک کے ساتھ ملازمین کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ ماضی میں عموماً کارروائی کمپنی مالکان تک محدود رہتی تھی، جس کے بعد وہ نئے ناموں سے کاروبار شروع کرکے انہی ملازمین کے ذریعے سرگرمیاں دوبارہ جاری رکھتے تھے۔