وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں ایس سی او سربراہ اجلاس کے انعقاد کے لیے مختلف اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اجلاس کے شرکا کو اسلام آباد میں جاری ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اجلاس کے دوران ایس سی او اجلاس کے لیے ضروری سہولیات، شہر کی مجموعی تیاری اور مختلف منصوبوں کی تکمیل سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے اور انتظامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس اہم بین الاقوامی اجتماع کے انتظامات اعلیٰ ترین معیار کے مطابق کیے جائیں گے
اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطے اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کی میزبانی کو منظم، ہموار اور کامیاب بنانے کے لیے تمام اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا
ایس سی او اجلاس کی میزبانی کے پیش نظر اسلام آباد میں بنیادی ڈھانچے اور شہری سہولیات سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے
اجلاس میں سی ڈی اے کی جانب سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ایس سی او سربراہ اجلاس کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پر کام جاری ہے
حکومت کی جانب سے اجلاس کے انعقاد کے لیے کانفرنس وینیو، وفود کی رہائش، آمدورفت، سکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے
نائب وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ اتنے بڑے بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کے لیے وفاقی وزارتوں، سکیورٹی اداروں، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے
ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں تاکہ اجلاس کے موقع پر کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور، چیئرمین سی ڈی اے، نیشنل کوآرڈی نیٹر ایس سی او سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی
پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مختلف سطحوں پر تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے
ایس سی او اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہوتی ہے، جس کے باعث میزبان ملک کے لیے سکیورٹی، سفارتی، رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو مربوط انداز میں مکمل کرنا اہم ہوتا ہے
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اہم بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تیاریوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہونے دی جائے
ایس سی او سربراہ اجلاس پاکستان کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی ترجیحات اجاگر کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہوگا، جبکہ اجلاس کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان تعاون، تجارت، معیشت اور علاقائی روابط سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا
حکام کے مطابق اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے تیاریوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور مختلف مراحل پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔







